Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
172 - 784
 میں ایک نو جوان کو دیکھاجس کے ہاتھ میں ایک چھری تھی اوروہ  لوگوں کے درمیان بآواز بلند پکار کر کہہ رہا تھا:
یَوۡمُ الۡفِرَاقِ مِنَ الۡقِیَامَةِ اَطۡوَل		وَ الۡمَوۡتُ مِنۡ اَلۡمِ التَّفَرُّقِ اَجۡمَل
قَالُوا الرَّحِیۡلُ فَقُلۡتُ لَسۡتُ بِرَاحِل		لٰکِنۡ مُھۡجَتِی الَّتیْ تَتَرَحَّل
	ترجمہ:(١)…جُدائی کا دن قیامت کے دن سے زیادہ لمبا ہے اور دردِ جُدائی سے موت زیادہ اچھی ہے۔
	(٢)…لوگ کہتے ہیں:کُوچ کرنا ہےمیں کہتا ہوں: مجھےنہیں بلکہ میری روح نے سفر کرنا ہے ۔
	یہ کہہ کر  اس نوجوان نے چھر ی سے اپنا پیٹ چیر دیا اور مر گیا۔ میں نے لوگوں سے اس کے اور اس کے مُعاملے کے بارے میں پوچھا تومجھے بتایا گیا:”یہ بادشاہ کے ایک غلام پر فریفتہ تھا، وہ صرف ایک دن اس سے اوجھل رہا ۔“
ایک اپاہج کا صبرو رضا:
)9(…منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا یونسعَلَیْہِ السَّلَام نے حضرت سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا:”مجھے روئے زمین کے سب سے بڑے عابد کے بارے میں بتاؤ۔“تو انہوں نے ایک ایسے آدمی کے بارے میں بتایا جس کے ہاتھ اور پاؤں کوڑھ کی وجہ سے کٹ چکے تھے اور اس کی بینائی بھی جا چکی تھی ۔حضرت سیِّدُنا یونس عَلَیْہِ السَّلَام نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا:” اے میرے معبود! تو نے جب تک چاہا مجھے ان سے فائدہ دیا اور جب تو نے چاہا انہیں مجھ سے لے لیا اور اپنی ذات میں میری اُمید کو باقی رکھا۔ اے احسان فرمانے اور اے نیکی تک پہنچانے والے۔“
بیٹے کی موت پر خوشی ورضا:
)10(…مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا ایک بیٹا بیمار ہو گیا تو آپ کو اس قدرغم لاحق ہوا حتّٰی کہ بعض لوگ یہ کہنے لگے :”ہمیں اندیشہ ہے کہ اس لڑکے کے سبب اِن کے ساتھ کوئی معاملہ نہ بن جائے۔“پھر وہ لڑکا فوت ہو گیا۔جب حضرت سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَااس کے جنازے کے ساتھ جار ہے تھے توبڑے خوش تھے۔آپ سے اس کا سبب پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا:”میرا غم صرف اس پر شفقت کی وجہ سے تھا اور جب  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حکم آگیا تو ہم اس پر راضی ہوگئے۔ “