دیکھیں گے تودیدار کی لذت کے سبب ان کی آنکھیں ان کے دلوں میں چلی جائیں گی اور800سال تک ان کی طرف نہیں لوٹیں گی تو جو دل اس کے جمال اور جلال کے درمیان پڑے ہوئے ہیں ان کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ مشاہَدۂ جلال کے وقت خائف اور مُلاحَظَۂ جمال کے وقت حیران ہوتے ہیں ۔
حکایت:چیونٹیاں گوشت کھا رہی تھیں
)6(…حضرت سیِّدُنا بشر حافیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی راہِ سُلوک کی ابتدا میں جزیرۂ عَبّادان کا قصد کیا۔ وہاں میں نے ایک شخص کو پایا کہ اندھا ،کوڑھی اور مجنون ہے۔وہ زمین پر پڑا ہواہےاور چیونٹیاں اس کا گوشت کھا رہی ہیں۔ میں نے اس کا سر زمین سے اٹھا کر اپنی گود میں رکھ لیا اور بار بار اس سے کچھ کلام کیا۔جب اس کو کچھ افاقہ ہوا تو کہنے لگا:’’میرے اور میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان دخل اندازی کرنے والا یہ کون ہے؟اگر وہ میرا ایک ایک عضو کاٹ ڈالے تو بھی میری محبت میں اضافہ ہی ہوگا۔“حضرت سیِّدُنا بِشرحافیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِیفرماتے ہیں: اس واقعے کے بعد سے میں نے بندے اور ربّعَزَّ وَجَلَّ کے درمیان کسی مُعاملے کو اذیت نہیں سمجھا کہ اس کو ناپسند کروں۔
نبی کی زیارت بھوک مٹادیتی:
)7(…حضرت سیِّدُناابو عمرو محمد بن اَشعث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: اہْلِ مصر چار ماہ تک اس طرح رہے کہ ان کی غذا صرف حضرت سیِّدُنایوسف عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے چہرے کی زیارت تھی۔انہیں جب بھوک لگتی تو وہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے مبارک چہرے کو دیکھ لیتے تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے جمال کی وجہ سے انہیں بھوک کی تکلیف محسوس نہ ہوتی۔بلکہ قرآنِ پاک میں تو اس سے بھی بڑھ کر واقعہ موجود ہے ،وہ یہ کہ مصر کی عورتیں حضرت سیِّدُنا یوسُف عَلَیْہِ السَّلَام کے حسن و جمال پر ایسی فریفتہ ہوئیں کہ اپنی انگلیاں کاٹ ڈالیں اور انہیں احساس تک نہ ہوا ۔
حکایت :ایک دن کی جُدائی نے جان لے لی
)8(…حضرت سیِّدُناسعید بن یحییٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے بصرہ میں عطاء بن مسلم کے سرائے