Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
169 - 784
فَصْد لگانے والے سے فصد یا پَچھنے لگواتا ہے تو وہ اس کی تکلیف پاتا ہے لیکن اس پر راضی ہوتا ہے اور اس میں رغبت بھی رکھتا ہے اور فصد لگانے والے کا احسان مند ہوتا ہے۔یہی حال اس شخص کاہے جو تکلیف پر راضی رہتا ہے ۔اسی طرح ہر وہ شخص جو نفع کمانے کی غرض سے سفر کرتا ہے وہ سفر کی مشقت اٹھاتا ہے لیکن اس کے نزدیک سفر کے ثمرات(یعنی منافع) کی محبت سفر کی مشقت سے اچھی ہوتی ہے اور وہ مشقت پر راضی ہوتا ہے ۔
یوں ہی جب بندے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے کوئی مصیبت پہنچتی ہے  اور اُسےیہ یقین ہو کہ مصیبت کا ثواب جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس ذخیرہ ہے وہ اس چیز سے بڑھ کر ہے جو اس سے جاتی رہی تو وہ مصیبت پر راضی ہوگا اور اس میں راغب ہوگا اور اس کو اچھا  جانے گا اور اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر بجا لائے گا۔یہ اس صورت میں ہے جب کہ اس کے پیشِ نظر ثواب اور احسان ہو جو اس کو مصیبت کے عوض ملے گا ۔
صرف رضائے محبوب کی طلب:
	یہ بھی ممکن ہے کہ محبت کا ایسا غلبہ ہو کہ محبوب کی مراد اور رضا ہی محب کا مطلوب ہو اس کے علاوہ کچھ مقصود نہ ہو تو ایسی صورت میں محبوب کی مراد اور رضا ہی اس کے ہاں مطلوب ہو گی اور ان سب باتوں کا مخلوق کی محبت میں عام مشاہدہ ہے۔بیان کرنے والوں نے اس کو اپنی نظموں اورنثروں میں بیان کیا ہے اور اس کی وجہ صرف آنکھ سے ظاہری صورت کے جمال کا مشاہدہ ہے۔پس اگر جمالِ ظاہری کی طرف نظر کرو تو وہ صرف کھال،گوشت اور خون ہے جس میں نجاستیں اور غلاظتیں ملی ہوئی ہیں، اس کی ابتدا ایک ناپاک نطفہ ہے اور انتہا ناپاک مردار۔ ان دونوں حالتوں کے درمیان وہ گندگی اٹھائے پھرتا ہے اور اگر جمال کا ادراک کرنے والے کی طرف دیکھو تو وہ خسیس آنکھ ہے جو دیکھنے میں اکثر خطا کرتی ہے ، چھوٹے کو بڑا اور بڑے کو چھوٹا ،دور کو قریب اور بد صورت کو خوبصورت دکھاتی ہے پس جب اس محبت کا غلبہ ممکن ہے تو پھر یہ امر اُس اَزَلی اَبدی جمال کی محبت میں کیسے ناممکن ہو سکتا ہے جس کے کمال کی کوئی انتہا نہیں اور اس کا ادراک باطنی آنکھ سے کیا جاتا ہے جس میں نہ غلطی کا امکان ہوتا ہے نہ موت اس کے قریب آتی ہے بلکہ موت کے بعد بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں زندہ رہتی ہے۔ اس کے رزق پر خوش ہوتی ہے اورمو ت کی وجہ سے اس کے ادراک اور کشف میں زیادتی ہو جاتی ہے۔