Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
168 - 784
 محسوس نہیں کرتا۔غور کیجئے کہ یہ کیفیت اس صورت میں ہے جب تکلیف محبوب کے علاوہ کسی اور سے پہنچےتو پھر جب خود محبوب کی طرف سے تکلیف پہنچے تو کیا کیفیت ہوگی؟
قوی محبت کا نتیجہ:
	 دل کا محبت اور عشق میں مشغول ہونا عظیم مشاغل  میں سے ہے اور جب یہ بات ہلکی سی محبت کے سبب تھوڑی تکلیف میں ممکن ہے تو بڑی محبت کے سبب بڑی تکلیف میں بھی ممکن ہے کیونکہ جس طرح تکلیف میں کمی و زیادتی ممکن ہے اسی طرح محبت میں بھی کمی و زیادتی ممکن ہے اور جس طرح ظاہری آنکھ سے ادراک کی جانے والی ظاہری صورتِ جمیلہ کی محبت قوی ہوتی ہے ،اسی طرح باطنی آنکھ(نورِ بصیرت) سے ادراک کی جانے والی باطنی صورتِ جمیلہ کی محبت بھی قوی ہوتی ہے اور بارگاہِ رَبُوبیت کا جمال و جلال تو ایسا ہے کہ اس پر کسی جمال اور جلال کو قیاس ہی نہیں کیا جاسکتا ۔لہٰذاجس شخص پر اس میں سے کچھ منکشف ہو تا ہے تو کبھی کبھاراس پر ایسا غلبہ طاری ہوجاتا ہے کہ مدہوش ہو کر بے ہوش ہو جاتاہے اور اس پرجوگزرتاہے اس کا احساس تک نہیں ہو تا۔
لذّتِ ثواب نے تکلیف ختم کردی:
	منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا فتح مَوصِلِی کی زوجہ محترمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کا پاؤں پھسلا اور ان کا ناخن ٹوٹ گیا تو وہ مسکرانے لگیں۔ ان سے عرض کی گئی : کیا آپ کو تکلیف نہیں پہنچی ؟ارشاد فرمایا:” ثواب کی لذت نے میرے دل سے تکلیف کی کڑواہٹ کو زائل کر دیا ہے ۔“
	حضرت سیِّدُناسَہل تُستری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو ایک مرض تھا کہ اگر کسی اور کو ہوجاتا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس کا علاج کیا کرتے لیکن  خود اپنا علاج نہیں کرتے تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے اس بارے میں پوچھا گیا توارشاد فرمایا:’’اے دوست!ضَرۡبُ الۡحَبِیۡبِ لَا یُوۡجَعیعنی محبوب کی مار تکلیف نہیں دیتی۔“
دوسری وجہ:
	تکالیف پر راضی رہنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ تکلیف کا احساس تو ہو لیکن پھر بھی اس پر راضی رہے بلکہ اس میں رغبت رکھتا ہو اور اپنی عقل سے اس کا طالب ہو اگرچہ طبیعت پر ناگوار ہو۔مثال کے طور پر جو شخص