Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
167 - 784
	حضورنَبیّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ ذیشان ہے:بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی حکمت اور جلال سے چین اور فرحت کو رضا اور یقین میں رکھا ہے جبکہ غم اور حُزن کو شک اور ناراضی میں رکھا ہے  ۔(1)
دوسری فصل:	حقیقتِ رِضا اور خلافِ نفس اُمُور میں اس کاتصَوُّر
تکالیف پر رِضا کی دووجہیں:
	یاد رکھئے  جس نے یہ کہا کہ ”خلافِ نفس اُمور اور مختلف قسم کی تکالیف پر صرف صبر ہی ہو سکتا ہے اور رضا متصور نہیں“تو وہ محبت کے انکار پر اتر آیا ہے کیونکہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے  محبت اور اس کی طرف استغراقِ توجہ ثابت ہے تو پھریہ بھی مخفی نہیں کہ محبت محبوب کے اَفعال سے راضی  ہونے کاسبب بنتی ہےاور ایسا دووجہوں سے ہوتا ہے :
پہلی وجہ:
	پہلی وجہ تکلیف کا احساس ختم ہو جانا ہے حتّٰی کہ اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو محسوس نہ ہو اور کوئی زخم لگ جائے تو دَرد کا اداراک نہ ہوجیسے کسی لڑنے والے شخص کوغضب یا خوف کی حالت میں کوئی زخم لگ جاتا ہے تو اس کو محسوس نہیں ہوتا حتی کہ جب خون دیکھتا ہے تب زخم کا علم ہوتا ہے ،بلکہ جو کسی کام میں مشغو ل ہو اور اس کے پاؤں میں کانٹا لگ جائے تو دل مشغول ہونے کی وجہ سے اس کو تکلیف کا احساس نہیں ہوتا بلکہ جس کوکُند چھری سے پچھنے لگائے جائیں یا کُند اُسترے سے اس کا سر مونڈا جائے  تو اس کی وجہ سے تکلیف پائے گا لیکن اگر اس کا دل کسی اہم بات میں مشغول ہو تو نائی اورپچھنے لگانے والا اپنے کام سے فارغ ہوجاتاہے اور اس کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ان سب کی وجہ یہ ہے کہ جب دل کسی معاملے میں انتہائی  درجہ مشغول ہوتا ہے تو اس کے علاوہ کا ادراک نہیں کرتا ۔اسی طرح جب عاشق کی پوری توجہ اپنے معشوق کے مشاہَدے یا اس کی مَحبت کی طرف ہوتی ہے تو بسا اوقات اسے ایسے اذیت ناک واقعات پیش آتے ہیں کہ اگر عشق نہ ہوتا تووہ ان کی تکلیف محسوس کرتا یا ان کے سبب غمگین ہوتا لیکن دل پر غَلَبَۂ محبت کی وجہ سے وہ کوئی تکلیف اور غم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…حلية الاولیاء،۱۰/  ۴۲،حدیث:۱۴۴۶۰،الرقم:۴۵۶،ابویزیدبسطامی،دون’’الیقین‘‘