)11(…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہارشادفرماتے ہیں:میں شدت وسختی یا وُسعت وکشادگی میں سے جس حال پر بھی صبح یا شام کروں مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔(1)
مصیبت پہنچنے پربھی خوشی:
)12(…منقول ہے کہ ایک دن حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے حضرت سیِّدَتُنا رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَاکے سامنے کہا:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہم سے راضی ہو جا۔حضرت سیِّدَتُنا رابعہ بصریہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَانےفرمایا:تمہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّسے حیاء نہیں آتی کہ اس سے رضا کا سوال کرتے ہو اورخود تم اس سے راضی نہیں ہو۔حضرت سیِّدُناسفیان ثوریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےکہا:میںاللہعَزَّ وَجَلَّسےاستغفارکرتا ہوں۔ وہاں موجود حضرت سیِّدُنا جعفر بن سلیمان ضبعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے پوچھا :بندہ کب اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے راضی کہلاتا ہے ؟حضرت سیِّدَتُنارابعہ بصریہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے فرمایا:جب وہ مصیبت پہنچنے پر اتناہی خوش ہو جتنانعمت ملنے پر خوش ہوتا ہے ۔
)13(…حضرت سیِّدُنا فُضَیل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے:”جب بندے کے نزدیک منع اور عطابرابر ہو تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے راضی ہے ۔“
)14(…حضرت سیِّدُناابوالحسن احمدبن ابوحواریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیبیان کرتےہیں کہ حضرت سیِّدُناابوسلیمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِینے فرمایا:بے شکاللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے کرم سے اپنے بندوں سے اس بات پر راضی ہوتا ہےجس بات پرغلام اپنےآقاؤں سےراضی ہوتےہیں۔میں نے عرض کی:یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ ارشادفرمایا: کیا غلام یہ نہیں چاہتا کہ ا س کا آقا اس سے راضی ہو؟ میں نے عرض کی:جی ہاں۔ارشاد فرمایا:بلاتشبیہاللہ عَزَّ وَجَلَّبھی اپنے بندوں سے یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اس سے راضی ہوں ۔
)15(… حضرت سیِّدُناسہل تُستری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :بندوں کو یقین میں سے اتناہی حصہ ملتا ہے جتنا ان کو رضامیں سے حصہ ملتا ہےاور ان کو رضا میں سے اتنا ہی حصہ ملتا ہے جتنا وہ بارگاہِ الٰہی میں زندگی گزارتے ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الزھد لابن المبارک، باب فضل المشی الی الصلوة وا لجلوس فی المسجد، حدیث:۴۲۵،ص۱۴۳،بتغیرقلیل