Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
164 - 784
ہوگا وہی جومیری چاہت ہے:
)19(…مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت سیِّدُنا داود عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی نازل فرمائی: اے داود! ایک تمہاری چاہت ہے اور ایک میری چاہت ہے اور ہوگا وہی جو میری چاہت ہے ۔اگر تم میری چاہت کو مان لو گے تو میں تمہاری چاہت کو پورا کردوں گا اور اگر تم نے میری چاہت کو نہ مانا تو میں تمہیں تمہاری چاہت میں تھکادوں گا  پھربھی  ہوگا وہی جو میری چاہت ہے۔
رضاکے متعلق 15اقوالِ بزرگانِ دین:
)1(…حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:بروزِ قیامت سب سے پہلے ان لوگوں کو جنت کی طرف بلایا جائے گا جو ہر حال میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر کرتے ہیں۔(1)
)2(…حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے فرمایا: مجھے مواقِعِ تقدیر کے علاوہ میں کوئی خوشی باقی نہیں رہی۔ان سے عرض کی گئی : آپ کیا چاہتے ہیں؟ ارشادفرمایا: جو اللہ عَزَّ وَجَلَّفیصلہ فرمائے۔
)3(…حضرت سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنفرماتے ہیں: جو تقدیر  پر راضی نہیں اس کی حماقت کا کوئی علاج نہیں ۔
)4(…حضرت سیِّدُنا فُضَیل بن عِیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: اگر توتقدیرِ الٰہی پر صبر نہیں کرسکتا تو اپنے نفس کی تقدیر پر بھی صبر نہیں کر سکے گا ۔
)5(…حضرت سیِّدُنا عبد العزیز بن روّاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب فرماتے ہیں :جَو کی روٹی اور سرکہ کھانے اور نہ ہی اون اور بالوں کا لباس پہننے میں شان ہے بلکہ شان تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا میں ہے ۔
)6(…حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشادفرمایا: میں کسی انگارے کو زبان سے چاٹوں اور وہ جلا دے جو جلادے اور باقی رہنے دے جو باقی رہنے دے،یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں ہوچکنے والے کام کے بارے میں کہوں: کاش نہ ہوتایا نہ ہونے والے کام کے بارے میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
… الزھد لابن المبارک، باب الاخلاص والنية،ص۶۸،حدیث:۲۰۶،عن سعید بن جبیر رضی اللّٰہ عنہ