Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
163 - 784
 پیدائش سے پہلے تمہارا حال ایسا ہی لکھا ہے اور دنیا کی پیدائش سے قبل میں نے تمہارے بارے میں یہی فیصلہ فرمایا ہے ۔کیا تم چاہوگے کہ میں تمہارے لئے  دنیا کو پھر سے پیدا کروں یا یہ چاہوگے کہ جو میں نے تمہارے لئے  مقدرکر دیاہے اس کو بدل دوں اورتمہاری چاہت میری چاہت سے بڑھ جائے ۔مجھے اپنی عز ت اور جلال کی قسم !اگر یہ بات تمہارے دل میں دوبارہ کھٹکی تو میں دَفْتَرِ نبوت سے تمہارا نام مٹادوں گا۔ “
عزت وچین والا گھر:
(17)…منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے چندچھوٹے بچے آپ کے جسم پر چڑھتے اور اترتے تھے ان میں سے کوئی اپنا پاؤں سیڑھی کی طرح آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی پسلیوں پر رکھتا اور سر تک چڑھ جاتا پھر اسی طرح پسلیوں پر سے نیچے اترآ تا اور آپ زمین کی طرف سر جھکائے رہتے اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام کچھ بولتے نہ ہی اپنا سر اٹھاتے۔ایک بیٹے نے آپ سے عرض کی: ابا جان!دیکھتے نہیں،یہ آپ کے ساتھ کیا کررہے  ہیں ؟آپ انہیں منع کیوں نہیں کرتے؟ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ارشادفرمایا:”بیٹا! جو میں دیکھتا ہوںوہ تم  نہیں دیکھتے اور جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔مجھ سے ایک ایسافعل صادر ہوا جس کے سبب میں عزت اور چین والے گھر(جنت) سے ذلت اور بد بختی والے گھر(دنیا)میں آگیا۔لہٰذا مجھے ڈر ہے کہ کہیں دوبارہ کوئی فعل صادر ہوجائے تو نہ جانے مجھے کیامصیبت پہنچے۔“
رسول ِپاکصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور رضائےالٰہی :
)18(…حضرت سیِّدُنا اَنس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:میں نے دس سال رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں گزارے لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی میرے کسی کام پریہ نہ فرمایا: ’’کیوں کیا‘‘اور نہ ہی جو کام میں نے نہیں کیا اس پر یہ فرمایا:’’کیوں نہیں کیا‘‘اور نہ کسی ہوجانے والے کام کے بارے میں فرمایا:’’کاش نہ ہوتا‘‘اور جو نہ ہوا اس کے بارے میں یہ نہ فرمایا:’’ کاش ہوجاتا‘‘اور اگرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اہل میں سے کوئی مجھ سے جھگڑتا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  فرماتے :”اس کو چھوڑ دو اگرتقدیر میں کسی کام کا ہونا لکھا ہے تو ہو کر رہے گا۔“(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند انس بن مالک النضر،۴/  ۴۶۱،حدیث:۱۳۴۱۷،مختصرًا