صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں:
)9(…جو شخص یہ جاننا چاہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں اس کا کیا مقام و مرتبہ ہے تو وہ دیکھ لے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا اس کے ہاں کیا مقام ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کو اپنے ہاں اسی لحاظ سے مقام عطا فرماتا ہے جس لحاظ سے بندہ اپنے ہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ معاملہ کرتاہے ۔(1)
فکرِ دنیا حلاوتِ مُناجات کو ختم کرتی ہے:
)10(…اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی:اے داود! میرے اولیا کو غَمِ دنیا سے کیا تعلق ۔ بے شک فکرِ دنیا میری منا جات کی حلاوت کو ان کے دلوں سے نکال دیتی ہے۔اے داؤد! میں اپنے اولیا سے یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ روحانی ہوں اور غم نہ کریں۔
میری قضا پر راضی رہو:
)11(…حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ ربُّ العزت میں عرض کی:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے کوئی ایسا کام بتا جس میں تیری رضا ہو تا کہ میں اسے بجا لاؤں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی طرف وحی فرمائی:میری رضا اس میں ہے جوتمہیں پسند نہیں اور جو تمہیں ناپسند ہے اس پر صبر نہیں کروگے ۔عرض کی :الٰہی! میری اس پر راہنمائی فرما۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:میری رضا اس میں ہے کہ تم میری مَشِیَّت پر راضی رہو ۔
زیادہ محبوب بندہ:
)12(…حضرت سیِّدُنا موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نےمناجات کرتے ہوئے عرض کی :اے میرے ربّ!تیری مخلوق میں سے کون سا بندہ تجھے زیادہ محبوب ہے؟ارشاد فرمایا:وہ جس سے میں اس کی محبوب چیز لے لوں تو وہ مجھ سے راضی رہے۔عرض کی:تو اپنی مخلوق میں کس پر ناراض ہوتا ہے؟ارشاد فرمایا:جو کسی معاملے میں مجھ سے استخارہ کرتے ہیں پھر جب میں ان کے لیے فیصلہ کر دوں تو میرے فیصلے سے ناراض ہوتے ہیں ۔
وہ کوئی اورتلاش کرلے:
ایک روایت مذکورہ روایت سے بھی سخت ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسند ابی یعلی الموصلی ، مسند جابر بن عبداللّٰہ،۲/ ۲۲۴،حدیث:۱۸۶۰