چلے جائیں گے اور وہاں جیسے چاہیں گے لطف اندوز ہوں گے۔ فرشتے ان سے پوچھیں گے: کیا تم حساب دیکھ چکے ہو؟وہ جواب دیں گے: ہم نے حساب نہیں دیکھا۔فرشتے پھر پوچھیں گے: کیا تم پُل صراط سے گزر چکے؟وہ جواب دیں گے: ہم نے پُل صراط کو نہیں دیکھا۔پھر فرشتے پوچھیں گے: کیا تم نے جہنم کو دیکھا؟وہ کہیں گے: ہم نے کسی چیز کو نہیں دیکھا۔تب فرشتے ان سے کہیں گے: تم کس کی امت میں سے ہو؟وہ جواب دیں گے:” ہم امام الانبیا حضرت محمدمصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امت ہیں۔“ فرشتے کہیں گے: ہم تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم دیتے ہیں کہ ہمیں بتاؤدنیا میں تمہارے کیا اعمال تھے؟ وہ جواب دیں گے :ہم میں دو خصلتیں تھیں جس کی وجہ سے ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل و کرم سے اس مرتبے کو پہنچے۔فرشتے پوچھیں گے: وہ دو خصلتیں کیا ہیں؟وہ جواب دیں گے:(۱)…جب ہم تنہائی میں ہوتے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کرنے سے حیا کرتے اور(۲)… ہم اس قلیل رزق پر راضی رہتے جو ہمارے لئے لکھ دیا گیا۔اس پر فرشتے کہیں گے:اسی لئے تم اس کے حق دار ہوئے ۔(1)
)7(…سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں: یَامَعۡشَرَ الۡفُقَرَاءِ اَعۡطُوا اللّٰہَ الرِّضَا مِنۡ قُلُوۡبِکُمۡ تَظۡفَرُوۡا بِثَوَابِ فَقۡرِکُمۡ وَاِلَّا فَلَا یعنی اے گروہِ فقرا!دل کی گہرائیوں سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے راضی رہو گے تو اپنے فقر کا ثواب پاؤ گے ورنہ نہیں۔(2)
رضائے الٰہی پانے کاعمل:
)8(…منقول ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت سیِّدُنا موسٰی کَلِیْمُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عرض کی:ہمارے لئے اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ سے کوئی ایساعمل پوچھئے کہ جب ہم اس کو بجا لائیں تو وہ ہم سے راضی ہوجائے۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:الٰہی! تو نے سن لیا جوانہوں نے کہا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:”اے موسٰی! ان سے فرما دو کہ مجھ سے راضی رہیں میں ان سے راضی ہوں۔“
اس بات کی تائیدہمارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمانِ ذیشان سے بھی ہوتی ہے کہ آپ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…قوت القلوب ،شرح مقام التوکل ووصف احوال المتوکلین،۲/ ۶۵
2…فردوس الاخبار ،۲/ ۴۷۵،حدیث:۸۲۴۲