Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
158 - 784
دائمی دیدار کا سبب ہے ۔گویا ان کے نزدیک رضاتمام غایات کی غایت اور تمام مطالب کی انتہا ہوگی پس جب وہ لذتِ دیدار سے سرفراز ہوں گے  اور ان کو سوال کا حکم ہوگا تو وہ دائمی دیدار کا ہی سوال کریں گے  اور جان لیں گے کہ رضا ہی دائمی حجاب اٹھنے کا سبب ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: وَلَدَیۡنَا مَزِیۡدٌ ﴿۳۵﴾ (پ۲۶،ق:۳۵)			ترجمۂ کنز الایمان: اور ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہے ۔
بارگاہِ الٰہی سے تین تحفے:
	اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ  وقتِ مزید میں جنتیوں کے پاس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے یہ تین تحائف  آئیں گے:
	پہلایہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ایسا ہدیہ عطا ہوگاکہ  جنت میں اس کی مثل جنتیوں کے پاس نہیں ہوگا اسی کے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ارشاد ہے: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ۚ (پ۲۱،السجدة:۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان: تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے  چھپا رکھی ہے ۔
	دوسرا ان کے ربّ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے ان پر سلام ہوگااور یہ ہدیہ پر فضیلت رکھتا ہے۔اسی کے بارے میں ارشادِ باری تعالٰی ہے:
 سَلٰمٌ ۟ قَوْلًا مِّنۡ رَّبٍّ رَّحِیۡمٍ ﴿۵۸﴾ (پ۲۳،یٰسٓ:۵۸) 	ترجمۂ کنز الایمان: ان پر سلام ہوگا مہربان ربّ کا فرمایا ہوا۔
	تیسرا یہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان سے فرمائے گا:’’میں تم سے راضی ہوں ۔“یہ ہدیہ اور سلام دونوں سے افضل ہو گا اسی  کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتاہے: وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللہِ اَکْبَرُ ؕ  (پ۱۰،التوبة:۷۲)	ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ کی رضا سب سے بڑی۔
	اس آیت طیبہ کا مطلب یہ ہوا کہ رضائے الٰہی ان تمام نعمتوں اور لذتوں سے بڑی ہے جس میں اہلِ جنت ہوں گے۔یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کی فضیلت ہے جو کہ بندے کی رضا کا ثمرہ ہے ۔
رضا کے متعلق 19روایات:
(1)…مروی ہے کہ رسولِ اکرم،شفیعمُعَظَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی