Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
157 - 784
	احسان کی انتہا یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے بندے سے راضی ہو اور یہ وہ ثواب ہے جو بندے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے راضی ہونے کی صورت میں ملتا ہے۔
رضائے الٰہی  جنت سے بڑھ کرہے:
(3)…وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیۡ جَنّٰتِ عَدْنٍ ؕ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللہِ اَکْبَرُ ؕ  (پ۱۰،التوبة:۷۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور پاکیزہ مکانوں کا بسنے کے باغوں میں اور اللہ کی رضا سب سے بڑی۔
	اس آیتِ طیبہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی رضا کو جنتِ عدن سے بڑھ کر قرار دیا، جس طرح اپنے ذکر ِ پاک کو نماز سے بڑاقرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِؕ وَلَذِکْرُ اللہِ اَکْبَرُؕ (پ۲۱،العنکبوت:۴۵)	
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک نماز منع کرتی ہے بے حیائی اور بُری بات سے اوربے شک اللہ کا ذکر سب سے بڑا ۔
	پس  جس طرح نماز میں مشاہَدہ(یادِ الٰہی)نماز سے بڑھ کر ہے اسی طرح خالِقِ جنّت کی رضا بھی جنت سے ارفع و اعلیٰ ہے بلکہ اہْلِ جنت کا سب سے بڑا مقصد یہی رضا ہے ۔حدیث پاک میں ہے:’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ مؤمنین کے لئے  تجلی فرمائے گا اور ارشاد فرمائے گا: مجھ سے مانگو۔ وہ عرض کریں گے:تیری رضا چاہتے ہیں۔‘‘(1)
	تو ان کا دیدارِ خُداوندی کے بعد رضا کا سوال کرنا رضا کی انتہائی فضیلت کوثابت کرتا ہے اور رہا بندے کا اللہ عَزَّ وَجَلَّسے راضی ہونا تو اس کی حقیقت ہم عنقریب بیان کریں گے اور جہاں تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بندے سے راضی ہونے کا تعلق ہے تو اس کا ایک دوسرا معنیٰ ہے جو اس معنی کے قریب ہے جس کو ہم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بندے سے محبت کے تحت ذکر کیا ہےاور اس کی حقیقت کو کھولنا جائز نہیں کیونکہ اس کا اِدراک کرنے سے لوگوں کے ذہن قاصر ہیں اور جو اس پر قادر ہے تو وہ خود ہی اس کا اِدراک کر لیتا ہے ۔
خلاصَۂ کلام:
	دیدارِ باری تعالٰی سے بڑھ کر کوئی رُتبہ نہیں لہٰذا اہْلِ جنت رضا کا سوال اسی لئے  کریں گے کیونکہ یہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…المعجم الاوسط،۱/  ۵۶۶،حدیث:۲۰۸۴