Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
156 - 784
اس کی حقیقت اکثر پر مخفی ہے اور اس میں جوشبہ اور ابہام داخل ہوجاتا ہے وہ صرف انہی پر منکشف ہوتا ہے جن کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تاویل کا علم اور فہم اور دین کی سمجھ عطا فرمائی ہےاور منکرین نے خلافِ نفس اُمور میں امکانِ رضا کا انکار کیا ہے۔وہ کہتے ہیں:”اگر ہر چیز میں اس وجہ سے رضا ممکن ہے کہ وہ فعْلِ الٰہی ہے تو کفر اور گناہ پر بھی راضی ہونا چاہئے۔“اس سے بعض لوگ دھوکا کھاگئے اور انہوں نے فسق و فجور پر راضی رہنے اور اعتراض و انکار ترک کرنے کو بھی قضائے الٰہی تسلیم کرنا سمجھا ۔
	اگر یہ اَسرار ظاہری احکامِ شرع سننے سے منکشف ہوجاتے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے رسول،رسول مقبولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے لئے یہ دعا نہ فرماتے:’’اَللّٰھُمَّ فَقِّھۡہٗ فِی الدِّیۡنِ وَ عَلِّمۡہُ التَّاۡوِیۡل یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !اسے دین کی سمجھ اور تاویل کا علم عطا فرما۔“(1)
	لہٰذا پہلے ہم رضا کی فضیلت بیان کریں گے پھر راضی رہنے والوں کے احوال کی حکایات پھر حقیقتِ رضاپھر خلافِ نفس اُمور میں رضا کے ممکن ہونے کی کیفیت اوراس کے بعد وہ اُمور بیان کریں گے جن کو رضا کی تکمیل میں سے سمجھا جاتا ہے حالانکہ ایسا نہیں جیسے دُعا نہ کرنااور گناہوں پر خاموش رہنا۔
پہلی فصل :			رِضا کی فضیلت کا بیان
رضا کے متعلق تین فرامین باری تعالٰی:
	یہاں وہ آیات طیبہ بیان کی جاتی ہیں جو رضا کی فضیلت کے بارے میں وارد ہیں:
(1)…
رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوۡا عَنْہُ ؕ (پ۷،المآئدہ:۱۱۹)		ترجمۂ کنز الایمان: اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی۔
(2)…
ہَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ ﴿ۚ۶۰﴾ (پ۲۷،الرحمٰن:۶۰)		ترجمۂ کنز الایمان: نیکی کا بدلہ کیا ہے مگر نیکی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…بخاری ،کتاب الوضوء، باب وضع الماء عند الخلاء،۱/ ۷۳،حدیث:۱۴۳
	المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبد اللّٰہ بن العباس،۱/ ۷۱۷،حدیث:۳۱۰۲