Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
155 - 784
 آیتِ طیبہ دلالت کرتی ہے: وَ لَمْ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ٪﴿۴﴾ (پ۳۰،الاخلاص:۴،ترجمۂ کنزالایمان:اورنہ اس کے جوڑ کا کوئی)الغرض یہ تینوں باتیں اس سورت میں جمع ہیں اور پوری سورت کلمہ ”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ“کی تفصیل ہے۔
قرآنِ کریم کے بے اِنتہااَسرار :
یہ قرآنِ پاک کے اسرار ہیں اور اس طرح کے اسرارِ قرآنی بے انتہا ہیں۔ارشادِ باری تعالٰی ہے:
وَلَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۵۹﴾ (پ۷،الانعام:۵۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو۔
	اسی وجہ سے حضرت  سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’قرآن  کے معانی میں غور وفکر کرو اور اس کے عجائبات تلاش کرو کہ اس میں اگلوں اور پچھلوں کا علم ہے ۔“(1)
	بے شک بات یہی ہے جیسے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا ہے ۔ قرآن کریم کے اسرار کو وہی شخص جان سکتا ہے جو اس کے ایک ایک کلمے میں غور و فکر کرے اور اس کی فہم بھی صاف ہو حتی کہ ہر کلمہ اس کے لئے شہادت دے کہ یہ جَبَّار،قَہَّار،مالک اورقادِر کا کلام ہے اور طاقتِ بشری کی حد سے خارج ہے  ۔اکثر اسرارِ قرآنی قصص اور اخبار کے ضمن میں ہیں اس لئے  تم ان کے استنباط کے حریص ہوؤتاکہ اس میں سے تمہارے لئے  وہ عجائبات منکشف ہوں جن کے مقابلے میں تم ان مُزَیَّن عُلوم کو حقیر سمجھوگے جو قرآنِ پاک سے خارج ہیں۔
	یہی وہ باتیں تھیں جو ہم اُنس اور انبساط یعنی بے تکلفی کے معنیٰ اور بندوں کے درمیان بیانِ تفاوت کے سلسلے میں ذکر کرنا چاہتے تھے۔وَاللّٰہُ سُبۡحَانَہٗ وَ تَعَالٰی اَعۡلَم
باب نمبر3:			 قضائے الٰہی پر راضی ہونے کا معنی اس کی 
حقیقت اور فضیلت(اس میں چار فصلیں ہیں)
تمہیدی گفتگو:
	جان لیجئے !بے شک رضا ثمراتِ محبت میں سے ایک ثمرہ اور مُقَرَّبِین کے اعلیٰ مقامات میں سے ہے لیکن
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…الزھد لابن المبارک، باب ما جاء فی ذم التنعم فی الدنیا،ص۲۸۰،حدیث:۸۱۴