اورکبھی ان کو اپنی صفاتِ جلال کی پہچان کراتا ہے:
اَلْمَلِکُ الْقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیۡمِنُ الْعَزِیۡزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُؕ (پ۲۸،الحشر:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:بادشاہ نہایت پاک سلامتی دینے والا امان بخشنے والا حفاظت فرمانے والا عزت والا عظمت والا تکبر والا۔
بعض اوقات مخلوق کو خوف ورجا پر مشتمل اپنے افعال کی پہچان کراتا ہےتو انہیں اپنے دشمنوں اور اپنے پیاروں یعنی انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے ساتھ اپنا مُعاملہ بیان کرتا ہےجیسے وہ ارشاد فرماتاہے:
اَلَمْ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ﴿۶﴾۪ۙاِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ﴿۷﴾۪ۙ (پ۳۰،الفجر:۷،۶)
ترجمۂ کنز الایمان: کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے رب نے عاد کے ساتھ کیسا کیاوہ ارم حد سے زیادہ طول والے۔
اور ارشاد فرماتاہے:
اَلَمْ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیۡلِ ؕ﴿۱﴾ (پ۳۰،الفیل:۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کا کیا حال کیا ۔
تین اقسام میں قرآنِ پاک کی تقسیم:
قرآنِ پاک ان تین اقسام سے متجاوِز نہیں:(۱)… ذاتِ باری تعالٰی اورتقدیْسِ اُلوہیت کی معرفت یا(۲)… اس کی صفات اور اسما کی معرفت یا(۳)… پھر اس کے افعال اور بندوں کے ساتھ مُعاملے کی معرفت۔ سورۂ اخلاص ان تین اقسام میں سے ایک قسم پر مشتمل ہے اور وہ تقدیس اُلوہیت ہے۔ اس لئے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےاسےتہائی قرآن کےبرابرقراردیا۔فرمانِ مصطفٰےہے: مَنۡ قَرَءَ سُوۡرَةَ الۡاِخۡلَاصِ فَقَدۡ قَرَءَ ثُلُثَ الۡقُرۡاٰنیعنی جس نے سورہ ٔاخلاص پڑھی بے شک اس نے تہائی قرآن پڑھا۔(1) “کیونکہ غایتِ تقدیس یہ ہے کہ وہ تین اُمورمیں یکتاہو:ایک یہ کہ اس کاکوئی مثل اورمشابہ اس سےپیدانہ ہواہواس پریہ فرمان” لَمْ یَلِدْ ۬ۙ(ترجمۂ کنزالایمان:نہ اس کی کوئی اولاد)دلالت کرتا ہے دوسرا یہ کہ وہ اپنی مثل اور شبیہ سے پیدا نہ ہوا ہواور اس پر یہ ارشادربّانی” وَ لَمْ یُوۡلَدْ ۙ﴿۳﴾ (ترجمۂ کنزالایمان:اورنہ وہ کسی سے پیدا ہوا)دلالت کرتا ہے اورتیسرا یہ کہ اصل و فرع نہ ہونے کے باوُجود اس کے درجے کا کوئی نہ ہواوراس پر یہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی، کتاب فضائل القراٰن، باب ما جاء فی سورۃ الاخلاص،۴/ ۴۱۰،حدیث:۲۹۰۵