Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
153 - 784
 اسے پکڑ لیا تو میں اس کے ساتھیوں کے لئے  اسے مثال اور بعد والوں کے لئے عبرت بنا دوں گا ۔“پھر جب آصف بن برخیا حضرت  سیِّدُنا سلیمانعَلَیْہِ السَّلَام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے وحی الٰہی کے بارے میں انہیں بتایا تو وہ اٹھ کر باہر چلے گئے حتّٰی کہ ریت کے ایک ٹیلے پر چڑھ گئے پھر اپنے سر اور ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کیا اور عرض گزار ہوئے:”اے میرے معبود عَزَّ  وَجَلَّ!اے میرے مالک! تُوتُو ہے اور میں میں ہوں ۔اگر تو مجھے توبہ کی توفیق نہ دے گا تو میں کیسے توبہ کروں گا؟اور اگر تو مجھے نہیں بچائے گا تو میں کیسے بچ پاؤں گا؟میں دوبارہ گناہ کی طرف لوٹ جاؤں گا۔“اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت  سیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کے ذریعےان کی طرف پیغام بھیجا: اے آصف! تو نے سچ کہا کہ تُوتُوہے اور میں میں ہوں توبہ کی طرف متوجہ ہوجامیں نے تیری توبہ قبول کی کیونکہ میں توبہ قبول کرنے اور رَحم فرمانے والا ہوں ۔
	حضرت  سیِّدُنا آصف بن برخیا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا یہ کلام ناز کے ساتھ کلام کرنے والے کی طرح ہے اور اس کی طرح ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اسی کی طرف دوڑے اور اس سے اسی کو دیکھے۔
	مروی ہے کہ ایک بندہ ہلاکت کے کنارے پر تھا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کو اپنی پناہ اور حفاظت میں لے لیا اور اس کی طرف الہام فرمایا:”تو نے کتنے ہی ایسے گناہ میرے سامنے کئے  جو میں نے معاف کر دئیے حالانکہ اُن سے کم تر گناہ کی وجہ سے میں نے ایک امت کو ہلاک کر دیا۔“
قرآنِ کریم میں واقعات کیوں ہیں؟
	حاصل یہ کہ مَشِیَّتِ ازلی کے مطابق بندوں کی ایک دوسرے پر فضیلت اورتقدیم و تاخیر میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عادتِ جاریہ یہی ہے  اورقرآنِ پاک میں ان واقعات کے وارد ہونے کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ لوگوں کے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا طریقہ معلوم ہو جائے تو قرآنِ پاک میں موجود ہر چیز ہدایت اور نور اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے مخلوق کو آشنا کرنا ہے۔وہ کبھی مخلوق کو اپنی تقدیس کی پہچان کراتا ہےجیسے اس کاارشاد ہے:
قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾اَللہُ الصَّمَدُ ۚ﴿۲﴾ لَمْ یَلِدْ ۬ۙ وَ لَمْ یُوۡلَدْ ۙ﴿۳﴾ وَ لَمْ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ٪﴿۴﴾(پ۳۰،الاخلاص:۱تا۴)
ترجمۂ کنز الایمان: تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے اللہ بے نیاز ہے نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوااور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔