Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
152 - 784
نبی عَلَیْہِ السَّلَام نے خود پر سلام بھیجا:
	حضرت  سیِّدُنا عیسٰیرُوحُاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامان انبیائےکرامعَلَیْہِمُ السَّلَاممیں سے ہیں جن کو دیگر پر فضیلت دی گئی اورناز کی وجہ سے انہوں نے خود پر سلام بھیجا۔قرآنِ کریم میں ہے :
وَالسَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدۡتُّ وَ یَوْمَ اَمُوۡتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا ﴿۳۳﴾ (پ۱۶،مریم:۳۳)
ترجمۂ کنز الایمان: اور وہی سلامتی مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں گا۔
	 آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے جب مقامِ انس میں لطف کا مشاہدہ کیا تو بطورِ ناز یہ کلام فرمایالیکن حضرت  سیِّدُنایحییٰ بن زکریا عَلَیْہِمَا السَّلَام نے مقامِ حیاو ہیبت پر فائز ہونے کی وجہ سے یہ کلام نہیں فرمایا حتّٰی کہ خود خالِقِ کائنات نے ان کی تعریف میں فرمایا: وَسَلٰمٌ عَلَیۡہِ (پ۱۶،مریم:۱۵، ترجمۂ کنز الایمان: اور سلامتی ہے اس پر۔)
	اوریہ دیکھئے کہ حضرت  سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کے بھائیوں نے جو معاملہ آپ کے ساتھ کیا اس کو کیسے برداشت کیا گیا حالانکہ ایک عالِم فرماتے ہیں: میں نے پارہ 12،سورۂ یوسف کی آیت نمبر8سے لے کرآیت نمبر20تک برادرانِ یوسُف کی40سے اوپر خطائیں شمار کیں جن میں سے بعض، بعض سے بڑی ہیں اور کہیں تو ایک ہی کلمے میں تین تین اور چارچارتک خطائیں جمع ہیں۔ لیکن ان کی خطائیں معاف کی گئیں اور ان سے درگزر فرمایا گیا۔
کسی کو معافی تو کسی کی گرفت:
	       اسی طرح بَلعم بن باعورا کہ اکابر عُلَما میں سے تھا اور اس نے دین کے عوض دنیا کمائی تو اس سے درگزر نہ کیا گیااورحضرت  سیِّدُنا آصف بن برخیا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمُسْرِفِیْن میں سے تھے اور ان کی خطا ظاہری اعضاء سے متعلق تھی تو اس کو معاف کر دیا گیا۔
	مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت  سیِّدُنا سلیمانعَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی:” اے عابدین کے سردار اور اے راہنمائے زاہدین کے بیٹے! تیری خالہ کا بیٹا آصف کب تک میرے نافرمانی کرتا رہے گا اور میں بار بار اس سے درگزر کرتا ہوں مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم! اگر میری آندھیوں کے کسی جھونکے نے