غورکیجئے کہ اگر حضرت سیِّدُنا موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کے علاوہ کوئی اور اس طرح کی گفتگو کرتا تو بے ادبی شمار کی جاتی کیونکہ جو مقامِ اُنس پر فائز ہوتا ہے اس کے ساتھ لُطف برتا جاتا ہے اور اس کی ناز بَرداری کی جاتی ہے اور حضرت سیِّدُنایونس عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مقامِ قبض و ہیبت میں تھے تو ان سے اس سے بھی کم بات کو برداشت نہ کیا گیا اور انہیں تین اندھیروں میں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا اور قیامت تک یہ منادی کردی گئی:
لَوْ لَاۤ اَنۡ تَدٰرَکَہٗ نِعْمَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ لَـنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ ہُوَ مَذْمُوۡمٌ ﴿۴۹﴾ (پ۲۹،القلم:۴۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا۔
حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ ’’ اَلْعَرَآءِ‘‘سے مراد قیامت ہے ۔
پھر یہ کہ ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو(عجلت اور غضب کے معاملے میں) اُن کی اقتدا سے منع کرتے ہوئے فرمایا گیا:
فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَ لَا تَکُنۡ کَصَاحِبِ الْحُوۡتِ ۘ اِذْ نَادٰی وَ ہُوَ مَکْظُوۡمٌ ﴿ؕ۴۸﴾ (پ۲۹،القلم:۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کرو اور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا ۔
اَزَلی فضیلتیں:
یہ اختلافات بعض تو احوال اور مقامات کے اختلاف کی وجہ سے ہوتے ہیں اور بعض اس وجہ سے کہ اَزَل میں ہی بندوں کی ایک دوسرے پر فضیلت اور ان کی قسمت میں باہم تفاوُت لکھ دیا گیا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰی بَعْضٍ (پ۱۵،بنی اسرآئیل:۵۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اوربے شک ہم نے نبیوں میں ایک کو ایک پر بڑائی دی۔
نیز ارشاد فرماتا ہے:
مِنْہُمۡ مَّنۡ کَلَّمَ اللہُ وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجٰتٍؕ (پ۳،البقرة:۲۵۳)
ترجمۂ کنز الایمان: ان میں کسی سے اللہ نے کلام فرمایا اور کوئی وہ ہے جسے سب پر درجوں بلند کیا۔