نیزارشادباری تعالٰی ہے:
وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ (پ۱۵،الکھف:۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں۔
اہل انس کی ناز برداری:
جیسا کہ اوپر بندوں کے درمیان فرق بیان ہوا اسی طرح بے تکلفی اور ناز بھی بعض بندوں سے برداشت کیا جاتا ہے اور بعض سے نہیں۔جیسے حالتِ اُنس کی بے تکلفی میں سے حضرت سیِّدُنا موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کا یہ قول بھی ہے:
اِنْ ہِیَ اِلَّا فِتْنَتُکَ ؕ تُضِلُّ بِہَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَہۡدِیۡ مَنۡ تَشَآءُ ؕ (پ۹،الاعراف:۱۵۵)
ترجمۂ کنز الایمان:وہ نہیں مگر تیرا آزمانا تو اس سے بہکائے جسے چاہے اور راہ دکھائے جسے چاہے۔
اورجب آپ عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا گیا:
اِذْہَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ (پ۱۶،طہ:۲۴) ترجمۂ کنز الایمان: فرعون کے پاس جا۔
تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عذر کرتے ہوئے درج ذیل باتیں کہیں:
(1)…
وَ لَہُمْ عَلَیَّ ذَنۡۢبٌ (پ۱۹،الشعراء:۱۴) ترجمۂ کنز الایمان: اور ان کا مجھ پر ایک الزام ہے ۔
(2)…
قَالَ رَبِّ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اَنۡ یُّکَذِّبُوۡنِ ﴿ؕ۱۲﴾ وَ یَضِیۡقُ صَدْرِیۡ وَ لَا یَنۡطَلِقُ لِسَانِیۡ (پ۱۹،الشعرآء:۱۳،۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان: میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلائیں گےاور میرا سینہ تنگی کرتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔
(3)…
اِنَّنَا نَخَافُ اَنۡ یَّفْرُطَ عَلَیۡنَاۤ اَوْ اَنۡ یَّطْغٰی ﴿۴۵﴾ (پ۱۶،طٰہٰ:۴۵)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ہم ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا شرارت سے پیش آئے۔