Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
149 - 784
وَعَصٰۤی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی ﴿۱۲۱﴾۪ۖثُمَّ اجْتَبٰىہُ رَبُّہٗ فَتَابَ عَلَیۡہِ وَہَدٰی﴿۱۲۲﴾(پ۱۶،طٰہٰ:۱۲۲،۱۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی پھر اسے اس کے رب نے چن لیاتو اس پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائی اور اپنے قرب خاص کی راہ دکھائی۔
	یوں ہی ایک بندے سے اعراض کرنے اور دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کے سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے حبیب،حبیْبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر عتاب فرمایاحالانکہ وہ دونوں بندہ ہونے میں برابر تھے لیکن حال دونوں کا مختلف تھا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
وَ اَمَّا مَنۡ جَآءَکَ یَسْعٰی ۙ﴿۸﴾وَ ہُوَ یَخْشٰی﴿۹﴾ۙ  فَاَنۡتَ عَنْہُ تَلَہّٰی﴿ۚ۱۰﴾(پ۳۰،:عبس:۸تا۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ جو تمہارے حضورملکتا(ناز سے دوڑتا ہوا) آیااوروہ ڈر رہا ہے  تو اسے چھوڑکر اور طرف مشغول ہوتے ہو۔
اور دوسرے کے بارے میں فرمایا:
اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰی ۙ﴿۵﴾ فَاَنۡتَ لَہٗ تَصَدّٰی ؕ﴿۶﴾ (پ۳۰،:عبس:۵،۶)
ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو بے پروا بنتا ہے تم اس کے تو پیچھے پڑتے ہو۔
	اسی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھنے کا حکم ارشاد فرمایا: 
وَ اِذَا جَآءَکَ الَّذِیۡنَ یُؤْمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ (پ۷،الانعام:۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان: اور جب تمہارے حضور وہ حاضر ہو ں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے فرماؤ تم پر سلام۔
	جبکہ دوسرے گروہ سے اعراض کا حکم فرمایا: وَ اِذَا رَاَیۡتَ الَّذِیۡنَ یَخُوۡضُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ حَتّٰی یَخُوۡضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖ ؕ وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾ (پ۷،الانعام:۶۸)	
ترجمۂ کنز الایمان:اور اے سننے والے جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں پڑتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لے جب تک اور بات میں پڑیں اور جو کہیں تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔