Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
148 - 784
اہل اُنس کی باطنی باتیں:
	 اس طرح کے واقعات اُنس والوں کے لئے  ہوتے رہتے ہیں۔ دوسروں کو حق نہیں کہ ان سے مشابہت کریں ۔حضرت  سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:”اہْلِ اُنس اپنے کلام اور خلوت کی مناجات میں ایسی باتیں کہہ گزرتے ہیں جو عوام کے نزدیک کفر ہوتی ہیں۔“ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اگر یہ باتیں عوام سن لیں تو ان کو کافر سمجھیں جبکہ اہْلِ اُنس ان باتوں کے ذریعے اپنے احوال میں ترقی پاتے ہیں اوریہ باتیں ان سے برداشت کی جاتی ہیں اور یہ انہی کے لائق ہے۔
	اسی بات کی طرف ایک شاعر نے اشارہ کیا ہے:
قَوۡمٌ تَخَالَجَـھُمۡ زَھۡوٌ بِسَیِّدِھِمۡ		وَ الۡعَبۡدُ یَزۡھُوُ عَلٰی مِقۡدَارِ مَوۡلَاہٗ
تَاھُوا بِرؤۡیَتِہٖ عَمَّا سِوَاہٗ لَہُ		یَا حُسۡنَ رُؤۡیَتِھِمۡ فِی عِزِّ مَا تَاھُوۡا
	ترجمہ:(۱)…یہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے مولیٰ پر ناز وفخرکرتے ہیں اور بندہ اپنے مولی کی قدر کے مطابق ناز کرتا ہے ۔
	(۲)…اسے دیکھ کر وہ سب کچھ چھوڑ بیٹھےواہ!ان کی یہ قابلِ عزت رویت بھی کیا خوب ہے ۔
بات ایک اور نتیجے دو:
	اس بات کو بعیدمت جانو کہ ایک بات پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی بندے سے راضی ہو اور اسی بات پر دوسرے بندے سے ناراض ہو جبکہ دونوں کے مقامات مختلف ہوں۔قرآنِ پاک میں اس بات پر بہت سے اشارات موجود ہیں بشرطیکہ تو عقل اور فہم رکھتا ہو۔ تمام قرآنی قصے اہْلِ بصیرت اور اہْلِ بصارت کے لئے  اشارات ہیں تا کہ وہ اس کو عبرت کی نگاہ سے دیکھیں ورنہ دھوکے میں پڑے لوگوں کے لئے یہ محض قصے ہیں ۔
قرآنِ کریم میں سب سے پہلا قصہ حضرت  سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ابلیس لعین کا ہے کیا تم دیکھتےنہیں کہ لفظ معصیت اورمخالفت میں شراکت ہے جبکہ   اجتباء اورعصمت میں علیحدگی ہے۔بہرحال ابلیس تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے دور ہوا اور فرمایا گیا کہ ”وہ دُھتکارے ہوؤں میں سے ہے“جبکہ حضرت  سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے بارے میں ارشاد ہوا: