آگ سےجل گئیں لیکن ان کےدرمیان ایک جھونپڑی سلامت رہی۔ان دنوں حضرت سیِّدُناابومُوسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بصرہ کے امیر تھے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو جب اس کا پتا چلا تو اس جھونپڑی کے مالک کو بلوا بھیجا۔چنانچہ ایک بوڑھے شخص کو لایا گیا تو آپ نے اس سے فرمایا: شیخ! کیا وجہ ہے کہ تمہا ری جھونپڑی کو آگ نہیں لگی ؟اس نے جواب دیا:”میں نے اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کو قسم دی تھی کہ اس کو نہ جلائے ۔“تو حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایاکہ بے شک میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کویہ فرماتے ہوئے سنا ہے :’’میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جن کے بال پراگندہ اور کپڑے میلے ہوں گے اگر وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر قسم کھائیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کی قسم کو ضرور پورا کرے گا۔(1)
حکایت :قسم دیتے ہی آگ بجھ گئی
منقول ہے کہ ایک بار بصرہ میں کہیں آگ لگ گئی تو حضرت سیِّدُناابو عُبَیْدہ خوّاص عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب تشریف لائے اور آگ پر چلنے لگے ۔ بصرہ کے امیر نے ان سے کہا:دیکھئے! کہیں آپ آگ میں جل نہ جائیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:بے شک میں نے اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کو قسم دی ہے کہ وہ مجھے آگ سے نہ جلائے۔اس پر امیر نے عرض کی: پھر آپ آگ کو قسم دیں کہ بجھ جائے ۔پس آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے آگ کو قسم دی تووہ بجھ گئی ۔
حکایت:ہاتھوں ہاتھ دعا کا ظہور
ایک دن حضرت سیِّدُنا ابو حفص نیشا پوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کہیں جا رہے تھے کہ سامنے سے ایک دیہاتی آیا جس کے ہوش و حواس سلامت نہیں تھے۔حضرت سیِّدُنا ابو حفص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس سے فرمایا: تمہیں کیا مصیبت پہنچی ہے؟اس نے کہا: میرا گدھا گُم ہو گیا ہے اور اس کے علاوہ میرے پاس کوئی گدھا نہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ٹھہر گئے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض گزار ہوئے کہ تیری عزت اور جلال کی قسم! میں اس وقت تک ایک قدم بھی نہیں اٹھاؤں گا جب تک تو اس کا گدھا لوٹا نہ دے ۔ اسی وقت اس کا گدھا ظاہر ہوگیا اور ابو حفص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ وہاں سے چل پڑے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الاولیاء،۲/ ۳۹۸،حدیث:۴۲