Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
146 - 784
چھائی ہوئی ہے، ان کے باطن خبیث ہیں،بغیر یقین کے مجھ سے دعا مانگتے ہیں اور میری خفیہ تدبیر سے بے خوف ہیں۔تم میرے ایک بندے کے پاس جاؤ جس کو برخ کہا جاتا ہے اور اس سےکہو کہ باہرنکل کر بارش کی دعا کرے تا کہ میں اس کی دعا قبول کروں ۔“یہ سن کر حضرت  سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے بنی اسرائیل سے ”برخ “کے بارے میں پوچھا لیکن پتا نہ چل سکا ۔ ایک دن آپ کسی راستے پر جارہے تھے کہ اچانک سامنے سے ایک حبشی غلام آرہا تھا اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان سجدہ کی مٹی لگی ہوئی تھی اور ایک چادر گلے سے بندھی ہوئی تھی۔ حضرت  سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عطاکردہ نورسے اس کو پہچان لیا۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے  اسے سلام کرکے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے؟اس نے کہا:میرا نام برخ ہے۔آپ نے فرمایا: ایک مدت سے تم ہمیں مطلوب تھے،اب  چلو اور ہمارے لئے  بارش کی دعا کرو ۔
	پس اس نے باہر نکل کر یوں دعا مانگی:’’الٰہی! نہ یہ تیرا کام ہے اور نہ یہ تیرا حلم ہے ،پھر ایسا کیوں ہے! کیا تیرے پاس چشمے کم ہوگئے یا ہواؤں نے تیری اطاعت سے انکار کر دیا ہے یا تیرے خزانے ختم ہوگئے یا گناہگاروں پر تیرا غضب شدید ہو گیا ہے!کیا تو خطا کاروں کو پیدا کرنے سے پہلے ہی غفار نہیں تھا!تو نے رحمت کو پیدا کیا اور مہربانی کا حکم دیایایہ دکھاتا ہے کہ تو نے ہمیں چھوڑ دیا ہے یا تجھےمخلوق کے بھاگ جانے کا خوف ہے اس لئے  عذاب میں جلدی فرماتا ہے ۔“
	”بَرْخُ الاَسْوَد“اس طرح کی باتیں کرتارہا حتّٰی کہ بنی اسرائیل بارش سے تر ہوگئے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آدھے دن میں گھاس کو اُگادیا اور اتنا بڑا کر دیا کہ گھٹنوں تک پہنچ گئی۔جب برخ واپس  ہونے لگا توحضرت  سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ا س کے سامنے آئے تو اس نے کہا:آپ نے دیکھا کہ میں نے اپنے رب عَزَّ  وَجَلَّ  کے ساتھ کیسا جھگڑا کیا اور اس نے کیسے میرے ساتھ انصاف کیا ؟اس بات پرحضرت  سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس کی سرزنش کا  ارادہ کیا تواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کی طرف وحی فرمائی:( ایسا نہ کرو کیونکہ)برخ روزانہ مجھے میری شان کے لائق  تین بار ہنساتا ہے۔
حکایت :اللہعَزَّ  وَجَلَّ  قسم کو پورا کرتا ہے
	حضرت  سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ بصرہ میں کچھ جھونپڑیاں