صرف چھلکا ہے اور مطلوب مَغْز اس کے بعد ہے ۔پس جو شخص اخروٹ کے صرف چھلکے تک ہی پہنچ سکے وہ تمام اخروٹ کو لکڑی ہی سمجھتا ہے اور لازمی طور پر اس میں سے روغن نکالنا اس کے نزدیک محال وناممکن ہوگا۔ایسا شخص معذور تو ہے مگر اس کا عذر نا قابل قبول ہے اسی بارے میں کہا گیا ہے:
اَلۡاُنۡسُ بِاللّٰہِ لَا یَحۡوِیۡہِ بَطَّالٌ وَ لَیۡسَ یُدۡرِکُہٗ بِالۡحَوۡلِ مُحۡتَالُ
وَ الۡاٰنِسُوۡنَ رِجَالٌ کُلُّھُمۡ نَجَبٌ وَ کُلُّھُمۡ صَفۡوَةٌ لِلّٰہِ عُمَّالُ
ترجمہ:(۱)…باطل پرست اُنس باللہ کو سمجھ نہیں سکتا اور حیلہ ساز اس کا ادراک نہیں کر سکتا ۔
(۲)…اوراُنس رکھنے والے تمام لوگ شریف،مخلص اور باعمل ہوتے ہیں ۔
دوسری فصل: غلبۂ اُنس سے پیدا ہونے والی بے تکلفی
اور ناز کا مطلب
جان لیجئے کہ جب اُنس دائمی، غالب اور مستحکم ہو اور شوق کا قَلَق خَلَل نہ ڈالے اور نہ ہی تغیر اور حجاب کا خوف اس کی زندگی کو مُکَدَّر(میلا)کرے تو اس طرح کا اُنس اقوال ،افعال اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ مناجات کرنے میں ایک طرح کااِنْبِساط( یعنی بے تکلُّفی) پیدا کرتا ہے اور یہ بظاہر ناپسندیدہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں جرأت اور ہیبت کی قِلّت ہوتی ہے لیکن جو شخص مقام اُنس پر فائز ہو اس سےیہ برداشت کر لیا جاتا ہے اور جو اس مقام پر فائز نہیں ہوتا اور فعل و کلام میں اہْلِ اُنس کی مشابہت کرتا ہے تو وہ اس وجہ سے ہلاک ہوجاتا ہے اور کفر کے قریب پہنچ جاتا ہے ۔
”بَرخُ الْاَسْوَد“کی نرالی دعا:
اس کی مثال ”بَرْخُ الْاسْوَد “کی مناجات ہے جس کے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت سیِّدُناموسیٰ کَلِیْمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا تھا کہ اس سے جا کرفرماؤ کہ ”بنی اسرائیل کے لیے بارش کی دعا کرے۔“یہ اس وقت فرمایا تھا جب بنی اسرائیل سات سال سے قحط سالی کا شکار تھے اورحضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام70ہزار آدمیوں کے ساتھ نکلے تا کہ ان کے لئے بارش طلب کریں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ ”میں ان لوگوں کی دعا کیسے قبول کروں حالانکہ ان پر ان کے گناہوں کی تاریکی