Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
144 - 784
ایک سوال اور اس کا جواب:
	اُنس کی کیا علامت ہے ؟اس کا جواب یہ ہے کہ جان لیجئے ! اُنس کی خاص  علامت یہ  ہے کہ لوگوں کے ساتھ مل کر رہنے اور ان کے ساتھ اختلاط سے اس کا سینہ تنگ ہو اور ذکرِ الٰہی کی حلاوت پرفریفتہ ہو پس اگر وہ لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہے تو وہ ایسے ہوگا جیسے جماعت میں منفرد،خلوت میں مجتمع،وطن میں اجنبی،سفر میں مقیم ،غائب ہونے کی حالت میں موجود،حاضر ہونے کی حالت میں غائب، جسمانی طور پر لوگوں سے ملا ہوا مگر قلبی طور پر اکیلا ہوتا ہےاور حلاوتِ ذکر میں مُسْتَغْرَق ہوتا ہے۔
	امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتَضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا:وہ ایسے لوگ ہیں جن کے پاس حقیقت ِامر کا علم آیا تو وہ یقین کی آسائشوں میں لگ گئے ۔ جس چیز کو اہْلِ ثروت نے مشکل جانا اس کو انہوں نے آسان سمجھا۔ جس سے جاہلوں نے وحشت محسوس کی اس سے وہ مانوس ہوئے ۔ جسمانی طور پر وہ دنیا کے ساتھ رہے اوران کی روحیں مَلاء ِاَعْلیٰ میں مُعَلَّق رہیں۔وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی زمین میں اس کے خُلَفا ہیں اور اس کے دین کی طرف بلانے والے ہیں۔
بعض لوگوں  کا اِنکار:
	یہ اُنس بِاللہ کا معنیٰ ہے اور یہ اس کی علامت اور شواہدہیں اور بعض متکلمین نے اُنس ،شوق اور محبت کا انکار کیا ہے اس گمان پر کہ یہ باتیں تشبیہ پر دلالت کرتی ہیں اور وہ یہ بات نہیں جانتے  کہ باطن سے ادراک کی جانے والی اشیاء کا جمال ظاہری حواس سے ادراک کی جانےوالی اشیاء کے جمال سے کامل ہوتا ہے اور اہْلِ دل پرپہلی  قسم کی معرفت کی لذت غالب ہوتی ہے۔ان انکاری لوگوں میں سے ایک احمد بن غالب ہے جو غلام خلیل کے نام سے مشہور و معروف ہے، اُس نے حضرت  سیِّدُنا جنید بغدادی،حضرت  سیِّدُنا ابو الحسین نوری رَحۡمَۃُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا اور ایک جماعت پر محبت، شوق اور عشق کے بارے میں اعتراض کیا۔حتّٰی کہ بعض نے مقامِ رضا کابھی  انکار کیا اور کہا :صرف مقامِ صبر ہی ہے اور مقامِ رضا ممکن نہیں ۔
	یہ سب ناقص اور کم فہموں کا کلام ہے جو مقاماتِ دین میں صرف چِھلکے کو جانتے ہیں اور اپنے خیال میں صرف چھلکے کوسب کچھ سمجھتے ہیں ،کیونکہ محسوسات اور جو چیز دین کے راستے سے خیال میں داخل ہوتی ہے وہ