وجہ اس کی یہ ہے کہ اُنس بِاللہ غیر سے نفرت کو لازم کرتا ہے بلکہ ہر وہ امر جو خلوت سے مانع ہوتا ہے وہ دل پر سب سے زیادہ گراں ہوتا ہے جیسا کہ مروی ہے :جب حضرت سیِّدُنا موسٰی عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ہم کلام ہوئے تو ایک مدت تک یہ سلسلہ رہا کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام لوگوں میں سے جس کا کلام بھی سنتے تو آپ پربے ہوشی طاری ہوجاتی ۔کیونکہ محبت کی وجہ سے محبوب کا کلام اور اس کا ذکر اس طرح میٹھا لگتا ہے کہ دل سے اس کے ماسوا کی مٹھاس نکل جاتی ہے۔اسی لئے بعض حکما اپنی دعا میں یوں کہتے: اے وہ ذات جس نے اپنے ذکر سے مجھے مانوس کیا اور اپنی مخلوق سے مجھے وحشت دلائی۔
ماسوی اللہ سے مُتَنفِّر رہو:
اللہ عَزَّ وَجَلَّنےحضرت سیِّدُناداؤدعَلَیْہِ السَّلَامسےفرمایا:اے داؤد!میرےہی مشتاق رہواورمجھ سے اُنس حاصل کرو اور میرے ماسواسے متنفر رہو۔
حضرت سَیِّدَتُنارابعہ بصریہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَاسےعرض کی گئی:آپ نےیہ مقام کیسےپایا؟جواب دیا:’’لا‘‘
یعنی اُمورکوترک کرنےاورذاتِ لم یَزل سے اُنس کی وجہ سے۔
اُنس کی حلاوت کب ملتی ہے؟
حضرت سیِّدُنا عبدالواحد بن زید بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: میں ایک راہب کے پاس سے گزرا اور اس سے کہا :اے راہب !تمہیں تنہائی بہت پسند ہے ؟ اس نے جواب دیا:اے فلاں ! اگر تم تنہائی کا مزہ چکھ لو تو اپنے آپ سے بھی نفرت کرنے لگو ،تنہائی عبادت کی بنیادہے۔میں نے کہا: اے راہب! تم تنہائی سے کم از کم کیا فائدہ پاتے ہو ؟اس نے کہا :لوگوں کی خوشامد کرنے سے چھٹکارا اور ان کے شر سے سلامتی پاتا ہوں ۔میں نے کہا: اے راہب !بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اُنس کی حلاوت کب پاتا ہے؟اس نے جواب دیا: جب محبت صاف اور مُعاملہ خالص ہو۔میں نے کہا: محبت صاف کب ہوتی ہے؟ اس نے جواب دیا :جب تمام فکریں جمع ہو کر طاعت میں یکجاہوجائیں۔
ایک عقل مند ودانا نے فرمایا:’’مخلوق پر تعجب ہے وہ کیسے تجھ سے بدل چاہتے ہیں؟دلوں پر تعجب ہے وہ تیرے سوا کسی اور سے کیسے مانوس ہوتے ہیں؟‘‘