Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
142 - 784
باب نمبر2:				اللہ تعالٰی سے اُنْسِیَّت(اس میں دو فصلیں ہیں)
پہلی فصل:			   	اُنْسِیَّت کا معنٰی
شوق ،اُنس اور خوف کی تعریفات:
	ہم بیان کر چکے ہیں کہ اُنس،خوف اور شوق محبت کے آثار میں سے ہیں لیکن یہ آثار مُحب پر اس کی نظر کے اعتبار سے اور بوقتِ غلبَۂ کیفیت کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ تو جس وقت اس پر پردۂ غیب سے منتہائے جمال تک اطلاع غالب ہو اور حقیقتِ جلال پر مُطَّلَع ہونے سے اپنا قصور سمجھ لے تو اس وقت دل طلب کی طرف برانگیختہ ہوتا ہے اور اس کی طرف جوش مارتا ہے پس اس بَرانگیختگی اور جوش کی حالت کو شوق کہتے ہیں اور یہ امرِغائب کی نسبت سے ہوتا ہے اور جب اس پر قرب اور کشف سے حاصل ہونے والے مشاہَدۂ حضوری کی وجہ سے فرحت کا غلبہ ہو اور اس کی نظر ظاہر ہونے والے جمال پر لگی ہو اور جس کا ادراک ابھی تک نہیں ہوا اس کی طرف توجہ نہ ہوتواب جو کچھ ملاحظہ کرتا ہے اس سے دل کو خوشی ہوتی ہے، اسی خوشی کا نام اُنس ہے اور اگر اس کی نظر عزت ،استغنا،عدمِ مبالات اور امکانِ زوال اور بُعد کے خطرے کی طرف ہو تواس شعور سے دل تکلیف محسوس کرتا ہے اس تکلیف کا نام خوف ہے  اوریہ احوال اپنے مُلاحَظات کے تابع ہوتے ہیں اور ملاحظات تابع ہوتے ہیں ایسے اسباب کے جو ملاحظات کاتقاضا کرتے ہیں اور ان کا شمار ناممکن ہے ۔
	پتا چلا کہ اُنس کا معنیٰ ہے  جمال کو دیکھ کر دل کا خوشی اور فرحت حاصل کرنا حتّٰی کہ یہ خوشی اور سُرور جب غالب ہو اور غائب شے کی طرف بندے کی توجہ نہ رہے اور زوال کا خطرہ بھی اس کی طرف راہ نہ پائے تو اس کا چین اور لذت بڑھ جاتی ہے ۔یہی وجہ تھی کہ جب ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیا:’’ کیا آپ مشتاق ہیں؟“تو انہوں نے جواب دیا :نہیں! شوق تو صرف غائب چیز کا ہوا کرتا ہے اور جب غائب حاضر ہوجائے تو شوق کس کا ہوگا؟یہ ایسے شخص کا قول ہے جو حاصل شدہ شے کی خوشی میں ڈوبا ہوا تھا اور باقی رہنے والے ممکنہ مدارجِ الطاف کی طرف  اس کا اِلتفات نہیں تھا اور جس پر حالتِ اُنس کا غلبہ ہو اس کو صرف تنہائی اور خلوت کی خواہش ہوتی ہے۔چنانچہ منقول ہے کہ حضرت  سیِّدُنا ابراہیم بن ادہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم پہاڑ سے اتر رہے تھے تو کسی نے پوچھا:” آپ کہاں سے آرہے ہیں ؟“ جواب دیا:”اللہ	 عَزَّ وَجَلَّ سے  اُنس حاصل کر کے آرہا ہوں۔“