Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
141 - 784
	(۶)…ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ اس شخص کی بات کو سمجھنے والا دکھائی دے گا جو اپنے ہاں سائل کو ترجیح دیتا ہے ۔ 
	(۷)…اور ایک علامت یہ ہے کہ وہ بد حال نظر آئے گا مگر اپنے کلام میں احتیاط کرنے والا ہوتا ہے۔
	حضرت سیِّدُنایحییٰ بن مُعاذ رازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ اَنۡ تَرَاہُ مُشَمَّرًا     		فِیۡ خِرۡقَتَیۡنِ عَلٰی شُطُوۡطِ السَّاحِلِ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ حُزۡنُہٗ وَ نَحِیۡبُہُ		جَوۡفَ الظَّلَامِ فَمَا لَہٗ مِنۡ عَاذِلِ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ اَنۡ تَرَاہُ مُسَافِرًا    		نَحۡوَ الۡجِھَادِ وَ کُلِّ فِعۡلٍ فَاضِلِ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ زُھۡدُہٗ فِیۡمَا یَرٰی      		مِنۡ دَارٍ ذُلٍّ وَالنَّعِیۡمِ الزَّائِلِ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ اَنۡ تَرَاہُ بَاکِیًا		  اَنۡ قَدۡ راٰہُ عَلٰی قَبِیۡحِ فَعَائِلِ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ اَنۡ تَرَاہُ مُسَلِّمًا		کُلَّ الۡاُمُوۡرِ اِلَی الۡمَلِیۡکِ الۡعَادِلِ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ اَنۡ تَرَاہُ رَاضِیًـا		بِمَلِیۡکِہٖ فِی کُلِّ حُکۡمٍ نَازِلِ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ ضِحۡکُہٗ بَیۡنَ الۡوَرٰی		وَ الۡقَلۡبُ مَحۡزُوۡنٌ کَقَلۡبِ الثَّاکِلِ
	ترجمہ: (۱)…محب کی ایک علامت یہ ہے کہ تو اس کو لبِ ساحل دو چیتھڑوں میں کمر بستہ دیکھےگا۔
	(۲)…ایک علامت یہ ہے کہ وہ رات کے اندھیرے میں روتااور فراق میں آہ و زاری کرتا ہے ۔
	(۳)…ایک علامت یہ ہے کہ تو اس کو جہاد اور ہر باعِثِ فضیلت کام کے لئے تیار دیکھے گا ۔
	(۴)…ایک علامت یہ ہے کہ وہ ذلت والے گھر اور نا پائیدارنعمتوں سے بے رغبت ہوگا۔
	(۵)… ایک علامت یہ ہے کہ  بُرے فعل کے ارتکاب پر تو اسے روتا ہوا دیکھے گا ۔
	(۶)…ایک علامت یہ ہے کہ تو اس کو تمام اُمور عادل بادشاہ (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ)کے سپرد کرتا پائے گا۔
	(۷)…ایک علامت یہ ہے کہ تو اسے اپنے پروردگار عَزَّ  وَجَلَّ  کے ہر حکم پر راضی دیکھے گا ۔
	(۸)…ایک علامت یہ ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان ہنستا ہے مگر اس کا دل گمشدہ بچے کی ماں کی مثل غمگین ہوتا ہے ۔
(…تُوْبُوْا اِلَی اللہ		اَسْتَغْفِرُاللہ…)
(صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد…)