شیطان کا حبیب:
حضرت سیِّدُنا سَہل تُستری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی جب کسی انسان سے مخاطِب ہوتے تو فرماتے :’’اے دوست! یعنی اے حبیب!‘‘ایک بارآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا گیا کہ ہوسکتا ہے مخاطَب حبیب نہ ہو تو آپ اس کو کیسے دوست کہتے ہیں؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سوال کرنے والے کے کان میں آہستہ سے فرمایا کہ وہ دو حال سے خالی نہیں ہوگا یا تو مومن ہوگا یا منافق۔ اگر مومن ہے تو وہ رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا حبیب ہے اور اگر منافق ہے تو وہ شیطان لعین کا حبیب ہے ۔
علاماتِ محبت بصورتِ اشعار:
حضرت سیِّدُنا ابو تراب نَخۡشَبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے محبت کی علامات میں کچھ اشعار کہے ہیں:
لَا تُخۡدَعَنَّ فَلِلۡحَبِیۡبِ دَلَائِلٌ وَ لَدَیۡہِ مِنۡ تُحَفِ الۡحَبِیۡبِ رَسَائِلُ
مِنۡھَا تَنَعَّمُہُ بِمُرِّ بَلَائِہٖ وَ سُرُوۡرُہٗ فِی کُلِّ مَا ھُوَ فَاعِلُ
فَالۡمَنۡعُ مِنۡہُ عَطِیَّةٌ مَقۡبُوۡلَةٌ وَ الۡفَقۡرُ اِکۡرَامٌ وَ بِرٌّ عَاجِلُ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ اَنۡ تَرٰی مِنۡ عَزۡمِہٖ طَوۡعَ الۡحَبِیۡبِ وَ اِنۡ اَلَحَّ الۡعَاذِلُ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ اَنۡ یُرٰی مُتَبَسِّمًا وَالۡقَلۡبُ فِیۡہِ مِنَ الۡحَبِیۡبِ بَلَابِلُ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ اَنۡ یُرٰی مُتَفَھِّمًا لِکَلَامِ مَنۡ یُّحۡظٰی لَدَیۡہِ السَّائِلُ
وَ مِنَ الدَّلَائِلِ اَنۡ یُرٰی مُتَقَشِّفًا مُتَحَفِّظًا مِنۡ کُلِّ مَا ھُوَ قَائِلُ
ترجمہ:(۱)…دھوکا میں نہ رہنا،ہر عاشق کی کچھ علامات ہیں اور اس کے پاس محبوب سے ملنے والے تحائف ہیں۔
(۲)…ان میں سے ایک یہ ہے کہ محبوب کی ہر کڑوی تکلیف سے لطف اندوز ہو اور محبوب کے ہرسلوک پرخوش رہے۔
(۳)…اس کے انعام و اکرام روک لینے کو مقبول عطیہ سمجھے اور فقر ومحتاجی کو اکرام اور فوری بھلائی جانے۔
(۴)…ایک علامت یہ ہے کہ تو محب کو محبوب کی اطاعت کے لئے پرعزم دیکھے گااگرچہ ملامت کرنے والا مسلسل ملامت کرے ۔
(۵)…ایک علامت یہ ہے کہ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دکھائی دے گی اور دل یادِ محبوب میں سخت غمزدہ ہوگا۔