Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
139 - 784
بے ہوش ہوکر گر پڑے اور بے ہوشی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ کلمات غلبَۂ وجد میں اس وقت فرمائے تھے جب بے ہوشی طاری ہونے والی تھی۔
	یہ محبت اور اس کے ثمرات کی جامع علامات تھیں۔
دسویں علامت:
	 محبت کی علامات میں سے اُنْس و رضا بھی ہیں جیسا کہ عنقریب ان کی تفصیل آئے گی ۔حاصِلِ کلام  یہ ہے کہ تمام محاسِنِ دین اور مکارمِ اخلاق محبت کا ثمرہ ہیں اور جو محبت ثمر آور نہ ہو وہ خواہِشِ نفس کی اِتِّباع ہے جو کہ اخلاقِ رَذیلہ میں سے ہے ۔البتہ  بعض دفعہ انسان اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس لئے  محبت کرتا ہے کہ اس نے اس پر  احسان کیا ہے اور بعض دفعہ اس کے جمال اور جلال کی وجہ سے محبت کرتا ہے اگرچہ اس معاملے میں اس پر احسان نہ ہوا ہواور محبین ان دو اقسام سے خارج نہیں۔ 
محبَّتِ الٰہی میں لوگوں کی دواقسام:
	 حضرت  سیِّدُنا جنید بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت میں دو اقسام پر ہیں: (۱)… عام لوگ(۲)… خاص لوگ۔عام لوگوں نے اس مرتبے کو اس لئے پایا کہ وہ اس کا دائمی احسان اور کثرتِ نعمت دیکھتے ہیں تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکو راضی کرنے سے اپنے آپ کو روک نہ سکے لیکن انعام واحسان کی بقدر ان کی محبت میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔جہاں تک خاص لوگوں کا تعلق ہے تو انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدر، قدرت،علم اور حکمت کی عظمت اور سلطنت میں یکتائی کی وجہ سے محبت حاصل ہوئی ہے ۔جب انہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی صفاتِ کاملہ اور اس کے اسمائے حُسنٰی کو پہچانا تو اس سے محبت کئے  بغیرنہ رہ سکے کیونکہ ان کے نزدیک  اس وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّمستحق محبت ہے کیونکہ وہی اس کا اہل ہے اگرچہ ان سے تمام نعمتوں کو زائل فرما دے ۔البتہ بعض لوگ ایسے ہیں جو خواہش نفس اور دشمَنِ خدا ابلیس سے محبت کرتے ہیں اس کے باوُجود وہ دھوکے اور جہالت کو خَلْط مَلْط کر کے یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ محِبِّ الٰہی ہیں  حالانکہ ان میں علاماتِ محبت مفقود ہوتی ہیں۔وہ نفاق،ریا کاری اور شہرت کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں اور ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ دنیا کا حصہ پالیں اور اس کے خلاف ظاہر کرتے ہیں جیسے عُلَمائے سُوء اور بُرے قاری ہیں کہ یہ لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی زمین میں اس کے  دشمن ہیں۔