حتَّی المقدور کوشش اور طاقت صَرْف کر کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کی حتّٰی کہ مجھے گمان ہوا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں میرا کچھ مقام ہے۔“ پھر اسرار ِسماوی کے مکاشفات سے متعلق کچھ باتیں ذکر کیں اورایک طویل قصہ بیان کر کے آخر میں کہاکہ’’میں ملائکہ کی ایک صف تک پہنچا جن کی تعدا د تمام مخلوقات کی تعداد کے برابر تھی میں نے ان سے پوچھا: تم کون ہو؟ انہوں نے جواب دیا :ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبین ہیں اور تین لاکھ سال سے یہاں اس کی عبادت کر رہے ہیں، ہمارے دلوں میں اس کے سوا کسی کا خیال نہیں آیا اور نہ ہم نے اس کے علاوہ کسی کا ذکر کیا ۔“وہ بزرگ فرماتے ہیں: مجھے اپنے اعمال سے بہت حیا آئی،لہٰذامیں نے تمام اعمال ان لوگوں کو بخش دیئے جن پر جہنم کا عذاب واجب ہوچکا تھا تا کہ ان پرجہنم میں تخفیف ہو۔
معلوم ہوا کہ جو شخص اپنے نفس کو اور اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کو پہچان لیتا ہے اور اس سے کما حقہ حیا کرتا ہے تو اس کی زبان دعوٰیٔ محبت کا اظہار کرنے سے گونگی ہو جاتی ہے ۔ہاں اس کی حرکات وسکنات اورکچھ کرنا نہ کرناوغیرہ اس کی محبت پر گواہی دیتے ہیں۔چنانچہ،
قارورے سے محبت کا ظہور:
سیِّدُالطائفہ حضرت سیِّدُناجنیدبغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیبیان فرماتے ہیں کہ ہمارے اُستاد حضرت سیِّدُنا سَری سَقَطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیمار ہوئے اور ہمیں ان کی بیماری کا نہ تو سبب معلوم ہو سکا اور نہ ہی اس کی دوا تو ہمیں ایک طبیْبِ حاذِق کے بارے میں بتایا گیا۔ ہم ان کا قارورہ(پیشاب) طبیب کے پاس لے گئے تواس نے قارورہ دیکھا اور دیر تک دیکھتا ہی رہا پھر مجھ سے کہنے لگا :”یہ کسی عاشق کا قارورہ لگتا ہے۔“حضرت سیِّدُناجنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:یہ سن کر میں گر پڑا اور بے ہوش ہوگیا اور قارورہ میرے ہاتھ سے گر گیا۔ ہوش آنے پرمیں اپنے استاذ حضرت سیِّدُناسَری سَقَطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمتِ اَقدس میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ بیان کیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمسکرائے پھر فرمایا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کو مارے کیا خوب پہچان رکھتا ہے۔“میں نے عرض کیا :قبلہ استادِ مُکَرَّم! کیا قارورے سے بھی محبت ظاہر ہو جاتی ہے؟فرمایا: ہاں!
ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا سَری سَقَطِی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:اگر چاہوں تو اس طرح کہہ دوں کہ اُسی کی محبت نے میری کھال کو میری ہڈیوں پر خشک کیا اور اسی کی محبت نے میرے جسم کو لاغر کیا۔ پھرآپ