کرتا ہو بلکہ محب کا مقصود صرف محبوب کو مُطلع کرنا ہو اور اگر دوسرے کو بتانے کا بھی اِردہ ہے تو یہ بات محبت میں شراکت اور باعثِ خلل ہے۔
انجیل مُقَدَّس کا درس:
اللہ عَزَّ وَجَلَّانجیل مقدس میں فرماتا ہے :جب تو صدقہ کرے تو اس طرح صدقہ کر کہ تیرے بائیں ہاتھ کو پتا نہ چلے کہ تیرے دائیں ہاتھ نے کیا کیا۔ غیبوں کوجاننے والا تجھے اس کا اعلانیہ بدلہ دے گا اور جب توروزہ رکھے تواپنا منہ دھواور اپنے سر پر تیل لگا تا کہ تیرے رب عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کسی کو اس کا علم نہ ہو ۔“
پتا چلا کہ قول و فعل دونوں سے اظہار مذموم ہے مگر یہ کہ جب محبت کا نشہ غالب ہو اور زبان چل پڑے اور اعضاء مضطرب ہوں تو اس وقت اس کو ملامت نہیں کی جائے گی۔
ایک مجنون کی باتیں:
منقول ہے کہ ایک شخص نے کسی مجنون سے ایسا عمل دیکھا جس کو اس نے جنون اور جہالت سمجھا۔یہ بات اس نے حضرت سیِّدُنا معروف کرخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے بیان کی تو آپ مسکرانے لگے اور فرمایا: بھائی! اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرنے والے چھوٹے، بڑے،عقل منداور مجنون ہر طرح کے لوگ ہیں اور جو حالت تم نے دیکھی وہ مجنون محبین کی ہے۔
پھربناوٹ وتَصَنُّع کے ساتھ اظہارِ محبت کے ناپسندیدہ ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ محب اگر عارف ہو اور احوالِ ملائکہ یعنی ان کی دائمی محبت اور شوق سے واقف ہو کہ وہ رات دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پاکی بیان کرتے ہیں نہ تھکتے ہیں اور نہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں جو ان کو حکم ہوتا ہے وہی کرتے ہیں تو وہ بندہ شرم کی وجہ سے اظہارِ محبت سے باز رہے گا اور یقینی طور پر جان لے گا کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی سلطنت میں سب محبین سے کمتر ہے اور اس کی محبت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے تمام محبین کی محبت سے کم ہے ۔
تین لاکھ سال سے عبادت:
ایک صاحبِ کشف و اہْلِ محبت نے بیان کیا کہ” میں نے تیس سال تک دل اور ظاہری اعضاء کے ساتھ