Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
136 - 784
وَ مَنۡ قَلۡبُہٗ مَعَ غَیۡرِہٖ کَیۡفَ حَالُہٗ		وَ مَنۡ سِرُّہٗ فِیۡ جَفۡنِہٖ کَیۡفَ یَکۡتُمُ
	ترجمہ:جس کا دل غیرکے ساتھ ہو اس کا کیا حال ہوگا اور جس کا راز ا س کی پلکوں میں ہو وہ اس کو کیسے چھپائے گا؟
اللہ تعالٰی سے زیادہ دور:
	ایک عارف نے ارشادفرمایا : لوگوں میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے زیادہ دور وہی شخص ہے جو اس کی طرف زیادہ اشارے کرے ۔
	مطلب یہ ہے کہ جو ہر چیز میں بکثرت تعریض سے کام لے اور جب کسی کے پاس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نام لے تو تَصَنُّع ظاہر کرے۔ایسا شخص محبین اور عارفین کے نزدیک ناپسندیدہ ہے ۔
اظہارِمحبت والے کی اصلاح:
	حضرت  سیِّدُنا ذُوالنُّون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاپنے ایک مسلمان بھائی کے ہاں تشریف لے گئے جو لوگوں سے محبت کا ذکر کرتا تھا آپ نے اس کو آزمائشوں میں مبتلا دیکھا تو فرمایا :’’جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے دی گئی تکلیف پر درد محسوس کرے وہ اس سے محبت نہیں کرتا ۔“ ا س نے کہا :”میں کہتا ہوں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف کی لذّت نہیں پاتا وہ اس سے محبت نہیں کرتا ۔ “حضرت  سیِّدُناذُوالنُّون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”مگر میں کہتا ہوں جو خود کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا محب مشہور کرتا ہے وہ اس سے محبت نہیں رکھتا۔“ اس نے کہا: میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے توبہ کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع لاتا ہوں۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
	اگر تم کہوکہ محبت تو مقامات کی انتہا کا نام ہے اور اس کا اظہار کرنا بھلائی کا اظہار کرنا ہے تو پھر یہ بُرا کیوں ہے؟میں جواب میں کہوں گا کہ محبت قابلِ تعریف شے ہے اور اس کا اظہار بھی اچھا ہے لیکن اس کو بناوٹ وتَصَنُّع کے ساتھ ظاہر کرنا بُرا ہے کیونکہ اس میں دعوٰی محبت اور تکبر پایا جاتا ہے اور عاشِقِ صادق کا حق یہ ہے کہ وہ اپنی مخفی محبت کو اپنے اَفعال اور اَحوال سے پورا کرے اپنے اَقوال سے نہیں ۔اسے چاہئے  کہ اس کی محبت بغیر قصد اور ارادے کے ظاہر ہو اور کسی ایسے فعل کو ظاہر کرنے کا بھی قصد نہ کرے جو محبت پر دلالت