کی کثیر نشر و اشاعت سے زبانیں اور قلم رک جائیں ۔پھر یہ کہ جو چیزیں بظاہر بُری لگتی ہیں ان میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بے شمار حکمتیں اور اَسرار ہوتے ہیں جس طرح کہ اُمورِ خیر میں بے شمار اَسرار اور حکمتیں ہوتی ہیں اور اس کی قدرت کی طرح اس کی حکمتوں کی بھی کوئی انتہا نہیں ۔
نویں علامت:
علاماتِ محبت میں سے یہ بھی ہے کہ محبت کو چھپائے اور محبوب کے اِجلال ، تعظیم، اس کی ہیبت اور اس کے راز پر غیرت کی وجہ سے دعوٰیٔ محبت سے اجتناب کرے اور اظہارِ وجد و محبت سے بچے کیونکہ محبت محبوب کے رازوں میں سے ایک راز ہے اور یہ وجہ بھی ہے کہ دعوٰیٔ محبت میں ایسی بات بھی داخل ہو سکتی ہے جو زائد اور حد سے گزری ہوئی ہو تو یہ بہتان ہوگا جس کی وجہ سے آخرت میں سخت سزا اور دنیا میں آفات کا سامنا ہوگا ۔ہاں بعض دفعہ محب محبت کے نشے میں ایسا مدہوش ہوتا ہے کہ اس کا حال مُضْطَرِب ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس پر محبت ظاہر ہوتی ہے۔ اگر یہ حالت بغیر تکلف اور اختیار کے ہو تو وہ معذور ہے کیونکہ وہ مجبور ہے اور بعض اوقات آتِشِ محبت اس طرح مشتعل ہوتی ہے کہ اس کی تاب کسی کو نہیں ہوتی اور کبھی دل پر اس کا ایسا فیضان ہوتا ہے کہ اس کو روکا نہیں جا سکتا تو جو رازِ محبت چھپانے پر قادر ہے وہ یوں کہتا ہے:
وَ قَالُوۡا قَرِیۡبٌ قُلۡتُ:مَا اَنَا صَانِعٌ بِقُرۡبِ شُعَاعِ الشَّمۡسِ لَوۡ کَانَ ِفیْ حَجۡرِیْ
فَمَا لِیْ مِنۡہُ غَیۡرُ ذِکۡرِ بِخَاطِرٍ یَھِیۡجُ نَارُ الۡحُبِّ وَالشَّوۡقِ فِیْ صَدۡرِیْ
ترجمہ:(۱)…لوگوں نے کہا:وہ قریب ہے ۔ میں نے کہا: سورج کی شعاعوں کے قرب کا میں کیا کروں اگرچہ میری گود میں ہوں۔
(۲)…میرے دل میں صرف اسی کی یاد ہے اور میرے سینے میں محبت اور شوق کی آگ بھڑکتی ہے۔
اورجورازِ محبت چھپانے سے عاجز ہووہ کہتا ہے:
یَخۡفٰی فَیُبۡدِیَ الدَّمْعُ اَسۡرَارَہٗ وَ یُظۡھِرُ الۡوَجۡدَ عَلَیۡہِ النَّفۡسُ
ترجمہ:وہ چھپاتا ہے مگر آنسو اس کے اسرار کو ظاہر کردیتے ہیں اور آہ بھرنا اس کے وجد کو ظاہر کر دیتا ہے۔
اوروہ یہ بھی کہتا ہے :