مَوَارِدُھُمۡ فِیۡھَا عَلَی الۡعِزِّ وَالنِّھی وَ مَصۡدَرُھُمۡ عَنۡھَا لِمَا ھُوَ اَکۡمَل
تَرُوۡحُ بِعِزِّ مُفۡرَدٍ مِّنۡ صِفَاتِہٖ وَ فِی حُلَلِ التَّوۡحِیۡدِ تَمۡشِی وَ تَرۡفَل
وَ مِنۡ بَعۡدِ ھٰذَا مَا تَدُقُّ صِفَاتُہٗ وَمَا کَتۡمُہٗ اَوۡلٰی لَدَیۡہِ وَ اَعۡدَل
سَاَکۡتُمُ مِنۡ عِلۡمِی بِہٖ مِا یَصُوۡنُہٗ وَ اَبۡذُلُ مِنۡہٗ مَا اَرَی الۡحَقَّ یَبۡذُل
وَ اُعۡطِی عِبَادَ اللّٰہِ مِنۡہٗ حَقُوۡقَھُمۡ وَ اَمۡنَعُ مِنۡہٗ مَا اَرَی الۡمَنۡعَ یَفۡضُل
عَلٰی اَنَّ لِلرَّحۡمٰنِ سِرًّا یَصُوۡنُہٗ اِلٰی اَھۡلِہٖ فِی السِّرِّ وَ الصَّوۡنِ اَجۡمَل
ترجمہ:(۱)… میں ایسے لوگوں کے ساتھ چلا جن کے دل عالَمِ غیب میں رہتے ہیں،جو بُزرگی وفضل والی ذاتِ اَقدس کے قریب اُترے۔
(۲)…وہ ایسے میدان میں اترتے ہیں جو اس کے سایَۂ اقدس میں ہیں ۔ان کی ارواح وہاں گھومتی اور ادھر ادھر جاتی ہیں۔
(۳)…یہ حضرات مقامِ عزت اور آخری حد پر اترتے ہیں اور اس حد سےآگےاکمل مقام کے لئے نکلتے ہیں۔
(۴)…یہ ہستیاں اپنی صفات میں یکتا ذات کے غلبہ کے ساتھ اور توحید کے لباس میں ناز سے چلتی ہیں۔
(۵)…اس کے بعد وہ مقام ہے جہاں بابِ صفات کو کھٹکھٹایاجاتا ہے اوراس کا چھپانا زیادہ مناسب اور قریْنِ انصاف ہے۔
(۶)…ابھی میں اُس کے متعلق اپنا علم چھپاؤں گا جس کا چھپانا ضروری ہے اور جس کا بتانا حق ہے اس کو ظاہر کردوں گا۔
(۷)…اس میں سے جوبندوں کا حق بنتا ہے انہیں دوں گا اور جس کا روکنا بہتر ہے اس کو روک لوں گا۔
(۸)…کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کچھ راز چھپاکر ان کے اہل تک پہنچائے جاتے ہیں اور حفاظت اچھی چیز ہے۔
جن مَعارف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ان جیسے مَعارف میں سب کا شریک ہونا ممکن نہیں اور یہ بھی جائز نہیں کہ جس کے لئے ان معارف میں سے کچھ منکشف ہو وہ اس کو ایسے شخص کے سامنے ظاہر کرے جس کے لئے ان میں سے کچھ منکشف نہیں ہوا بلکہ اگر تمام لوگ ان معارف میں شریک ہوجائیں تو نظامِ دنیا میں فساد برپا ہوجائے ۔لہٰذادنیا کے آباد رہنے کے لئے حکمتِ الٰہی کا یہی تقاضا ہے کہ غفلت طاری رہے بلکہ اگر تمام لوگ چالیس دن تک حلال کھائیں تو ان کے زُہد کی وجہ سے دنیاوی نظام خراب ہوجائے ۔بازار اور معیشت کے ذرائع بے کار ہوکر رہ جائیں بلکہ اگر علما حلال کھائیں تو وہ اپنے آپ میں ہی مشغول ہوجائیں اور علم