Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
133 - 784
	صدیق نے پھر بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:” اے اَحْکَمُ الْحاکمین عَزَّ  وَجَلَّ! تو پاک ہے،تونے جو کچھ اس کو عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ کم فرمادے ۔“اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ذرہ معرفت کے لاکھویں حصے کا دس ہزارواں حصہ رہنے دیا اور باقی تمام اجزا سلب کر لئے ۔یوں اس کا خوف ،محبت اور رجااعتدال پر آگئے اوروہ پُر سکون ہوکر دیگر عارفین کی طرح ہوگیا۔ 
عارفین کے احوال:
	عارف کے حال کا وصف اس طرح بیان کیا گیا ہے :
قَرِیۡبُ الۡوَجۡدِ ذُوۡ مَرۡمَی بَعِیۡدٍ		عَنِ الۡاَحۡرَارِ مِنۡھُمۡ وَالۡعَبِیۡد
غَرِیۡبُ الۡوَصۡفِ ذُوۡ عِلۡمٍ غَرِیۡبٍ		کَاَنَّ فُؤَادُہٗ زُبَرَ الۡحَدِیۡد
لَقَدۡ عَزَّتۡ مَعَانِیۡہٖ وَجَلَّتۡ		عَنِ الۡاَبۡصَارِ اِلَّا لِلشَّھِیۡد
یَرَی الۡاَعۡیَادَ فِی الۡاَوۡقَاتِ تَجۡرِیۡ		لَہٗ فِیۡ کُلِّ یَوۡمٍ اَلۡفَ عِیۡد
وَ لِلۡاَحۡبَابِ اَفۡرَاحٌ بَعِیۡدٌ		وَلَا یَجِدُ السَّرُوۡرَ لَہٗ بَعِیۡد
	ترجمہ:(۱)…عارف کا وجد لوگوں سے قریب  اوراس کا مقصد آزاد و غلام ہر ایک سے دور ہوتا۔
	(۲)… اس کا انداز نرالا اور علم اجنبی ہے ۔ اس کا دل گویا کہ لوہے کی تختیاں ہیں۔
	(۳)…اس کے مقاصد بڑے بلند اور صاحبِ بصیرت کے سوا ہر آنکھ سے اوجھل ہیں ۔
	(۴)…وہ ہر وقت عیدوں کا نظارہ کرتا ہے۔اس کے لئے  ہردن ہزاروں عیدیں ہیں۔
	(۵)… لوگوں کی خوشیاں تو دور ہیں لیکن وہ خوشی کو دورنہیں پاتا۔
عارفین کے اسرار:
	سیِّدُ الطّائفہ حضرت  سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیاحوالِ عارفین کے اَسرار و رُموز کی طرف اشارہ  کرتے ہوئے درج ذیل اشعار پڑھا کرتے تھے ۔صرف اشارہ کیا ہے کیونکہ ان اسرار کا اظہار جائز نہیں :
سِرۡتُ بِاُنَاسٍ فِی الۡغُیُوۡبِ قُلُوۡبُھُمۡ		فَحَلُّوا بِقُرۡبِ الۡمَاجِدِ الۡمُتَفَضِّل
عِرَاصًا بِقُرۡبِ اللّٰہِ فِی ظِلِّ قُدۡسِہٖ		تَجُوۡلُ بِہَا اَرۡوَاحُھُمۡ وَ تَنَقَّل