Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
132 - 784
محبت وخوف ساتھ ساتھ:
	بعض عارفین کا قول ہے: جو شخص محض محبت کی وجہ سے بغیر خوف کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرتا ہے وہ زیادہ پاؤں پھیلانے اور ناز کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوتا ہے اور جو بغیر محبت کے صرف خوف کی وجہ سے عبادت کرتا ہے وہ بُعد(دوری)اور وحشت کی وجہ سے اس سے مُنْقَطَع ہوجاتا ہے اور جو شخص خوف اور محبت دونوں کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرتا ہے اس کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنا محبوب اور مُقَرَّب بنا لیتا ہے اور اس کو قدرت اور علم عطا فرماتا ہے ۔
	حاصل یہ کہ محب خوف سے خالی نہیں ہوتا اور خائف محبت سے خالی نہیں ہوتا ،لیکن جس پر محبت غالب ہویہاں تک کہ اس میں خوب پھیل گئی ہو اور خوف تھوڑا ہو اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ مقامِ محبت میں ہے اور اس کو محبین میں شمار کیا جائے گا اور خوف کی آمیزش محبت کے نشے کو کچھ ساکن کر ے گی اور اگر محبت غالب ہو اور معرفت بھی حاصل ہو تو طاقتِ بشری اس کی متحمل نہیں ہو سکتی ،خوف ہی اس کو اعتدال میں لاتا ہے اور دل پر اس کے اثر کو کم کرتا ہے ۔
معرفت کا ذرہ اور لاکھ سوالی:
	منقول ہے کہ ایک ابدال نے کسی صدیق سے کہا:اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا کریں کہ وہ مجھے اپنی معرفت کا ایک ذرہ عطا فرما دے۔ انہوں نے دعا کی(اور وہ قبول ہوئی)تو وہ ابدال پہاڑوں میں سرگرداں پھرنے لگے اور ان کی عقل حیران اور دل پریشان تھا ۔سات دن تک بے قرار رہے اور انہوں نے کسی شے سے نفع اٹھایانہ کسی نے ان سے نفع اٹھایا۔ صدیق نے ان کے لئے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کرتے ہوئے عرض کی :’’الٰہی!اس کے ذرۂ معرفت میں سے کچھ کم کردے۔“اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے صدیق  کے دل میں یہ بات  اِلقا فرمائی  کہ ہم نے اس کو معرفت کے ذرّے کا لاکھواں حصہ عطا فرمایا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ جس وقت تم نے مجھ سے اس کے لئے  دعا کی تھی اس وقت ایک لاکھ بندوں نے مجھ سے معرفت کے ایک ذرے کی دعا کی تھی اور میں نے ان کی دعا کو مؤخر کیا حتّٰی کہ تم نے اس کے لئے سفارش کی تو جب میں نے تمہاری دعا قبول کی ان کی دعا بھی قبول کی اور معرفت کے ایک ذرّے کو ایک لاکھ آدمیوں میں تقسیم فرما دیاتو اس  ابدال کی یہ حالت اسی وجہ سے ہوئی ہے۔