محبت میں بے غمی کا خوف:
پھر محبوب سے بے غم ہوجانے کا خوف ہےکیونکہ شوق،طلب اور حرص ہمیشہ محب کے ساتھ رہتی ہے اس لئے وہ زیادتی طلب کرنے سے سستی نہیں کرتا اور لطفِ جدید سے ہی تسلی پاتا ہے ۔پس اگر وہ اس سے بے غم ہوجائے تو یہ اس کے ٹھہر جانے یا واپسی کا سبب بن جائے گااور بے غم ہونا بندے پر اس طرح داخل ہوجاتا ہے کہ اس کو پتا بھی نہیں چلتا ۔جس طرح بعض اوقات محبت بندے پر اس طرح داخل ہوجاتی ہے کہ اس کو پتا بھی نہیں چلتا ۔ان تبدیلیوں کے اسباب پوشیدہ وسماوی ہو تے ہیں جن پر مُطَّلَع ہونا بندے کے بس کی بات نہیں پس جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے ساتھ اپنی خفیہ تدبیر فرمانا چاہتا ہے تو بندے پر وارد بے غمی کو اس سے مخفی رکھتا ہے اس طرح بندہ امید ہی امید میں ٹھہرا رہتا ہے اور حُسنِ ظن کی وجہ سے یا غفلت،خواہش اورنسیان کے غلبے کے باعث سستی کرتا ہےاور یہ سب(یعنی غفلت،شہوت اورنسیان)شیطان کے لشکر ہیں جو لشکرِملائکہ یعنی علم،عقل،ذِکْراوربیان پرغالب آجاتےہیں اورجس طرحاللہعَزَّ وَجَلَّکےاوصاف جیسے لُطف، رحمت اور حکمت جب بندے میں ظاہر ہوتے ہیں توجوشِ محبت کا تقاضا کرتے ہیں اسی طرح اس کے ایسے اوصاف ہیں جیسے جبریت،عِزت اور استغنا کہ جو ظاہر ہوتے ہیں تو بے غمی کولازم کرتے ہیں۔
محبت میں بڑا خوف:
پھر ان تما م خوفوں سے بڑھ کر اس بات کا خوف ہے کہ دل محبَّتِ الٰہی سے غیر کی محبت کی طرف منتقل نہ ہو جائے اور اسی کا نام مَقت (ناراضی)ہے اور محبوبِ حقیقی سے بے غمی اس مقام کی ابتداہے اور اعراض و حجاب بے غمی کی ابتدا ہے اور نیکیوں سے دل تنگ ہونا، دائمی ذکر سے جی گھبرانا اوراوراد وظائف سے ملال محسوس کرنا اعراض اور حجاب کی ابتدا اور اسباب ہیں اور ان اسبا ب کا ظہور مقامِ محبت سے مقامِ مقت کی طرف منتقل ہونے کی دلیل ہےاور ان اُمور سے ہمیشہ خائف رہنا اور خالص مراقبہ کے ذریعے ان سے بچنا سچی محبت کی دلیل ہے کیونکہ جو کسی چیز سے محبت کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے جاتے رہنے سے ڈرتا ہے۔ پتا چلا کہ جب محبوب کا جاتے رہنا ممکن ہوتو محب کو ہمیشہ خوف رہتا ہے ۔