Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
130 - 784
	آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا استغفار پہلے قدم پر اس لئے تھا کیونکہ دوسرے قدم کی نسبت اس میں بُعد پایاجاتا ہے اور راہِ سلوک میں تھک جانے اور محبوب کے علاوہ کی طرف التفات کرنے پر سالکین کے لیے یہ ایک طرح کی سزا ہے۔حدیْثِ قُدسی میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: ’’جب کوئی عالِم میری عبادت پر دنیاوی خواہشات کو ترجیح دیتا ہے تو میں کم از کم اس کو یہ سزا دیتا ہوں کہ اپنی مناجات کی لذت اس سے سلب کر لیتا ہوں ۔‘‘ (1)
	معلوم ہواکہ  خواہشات کے سبب دَرَجات کی زیادتی کا سلب ہوجانا عام لوگوں کے حق میں سزا ہے اور جہاں تک خواص کا تعلق ہے تو فقط دعوٰی کرنے یا خود پسندی میں مبتلا ہونے یا جو لُطف کے مبادی ظاہر ہوں ان کی طرف توجہ کرنے سے ہی وہ دَرَجات کی زیادتی سے محجوب کر دیئے جاتے ہیں اور یہ وہ خفیہ تدبیر ہے جس سے صرف وہ لوگ بچ سکتے ہیں جن کے قدم راہ سُلوک میں خوب راسخ ہوں ۔
اشعار سن کربے ہوش ہوگئے :
	پھر اس سے بڑا خوف اُس چیز کے فوت ہونے کا ہے جسے بعد میں حاصل کرنا ممکن نہ ہو۔حضرت  سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم دورانِ سیاحت ایک پہاڑ پر تشریف فرما تھے تو کسی کہنے والے کو کہتے سنا:
کُلُّ شَیۡءٍ مِّنۡکَ مَغۡفُوۡ		رٌ  سِوَی الۡاِعۡرَاضِ عَنَّا
قَدۡ وَھَبۡنَا لَــکَ مَا فَا		تَ  فَھَبۡ مَا فَاتَ مِنَّا
	ترجمہ:(۱)…ہم سے اعراض کرنے کے سوا تمہیں ہر شے کی معافی ہے۔
	(۲)…فوت شدہ کو ہم نے چھوڑا اور جو ہماری طرف سے رُک گیااُسے بھول جا۔
	یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تڑپ اٹھے اور بیہوش ہوگئے اور ایک رات دن آپ ہوش میں نہیں آئے اور بہت سے احوال آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پر طاری ہوئے۔پھر فرمایا: میں نے پہاڑ سے ایک آواز سنی کہ’’اے ابراہیم عبد( بندہ)ہوجا۔‘‘تو  میں عبد ہوگیا اور ہوش میں آگیا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…قوت القلوب،باب ذکرالفرق بین علماء الدنیا وعلماء الاٰخرہ،۱/ ۲۴۴