کرتا ہے جس طرح جمال کا ادراک محبت کو لازم کرتا ہے اور خاص محبین کو مقامِ محبت میں ایسے خو ف لاحق ہوتے ہیں جو دوسروں کو نہیں ہوتے اور ان کے بعض خوف بعض کی بَنِسْبَت سخت ہوتے ہیں۔جیسے سب سے پہلے اعراض کا خوف ہے اور اس سے بڑا خوف حجاب کا ہے اور اس سے بھی سخت تر قُربِ الٰہی سے دور کر دیئے جانے کا خوف ہے اور سورۂ ھود میں یہی معنی ہے جس نے سَیِّدُالۡمَحۡبُوبِیۡن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بوڑھا کر دیا اس وقت جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان سنا:” اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوۡدَ ﴿۶۸﴾٪ ‘‘ (1)اور یہ فرمان سنا:” اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُوۡدُ ﴿٪۹۵﴾۔‘‘ (2)
دوری کی ہیبت اور دل میں اس کا خوف اسی کو ہو گا جو قُرب سے مانوس اور اس کے ذائقے سے لُطف اندوز ہو لہٰذا دور کئے گئے لوگوں کے حق میں بُعْد کی بات اہْلِ قُرب کے کان میں پڑ کر ان کو بوڑھا کردیتی ہے اور جو شخص دوری سے مانوس ہو وہ قرب کا مشتاق نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ شخص دوری کے خوف سے روتا ہے جس کو بساطِ قُرب میسر نہیں۔ اس کے بعدوقوف اور زیادتِیٔ دَرَجات کے سلب ہونے کا خوف ہے ۔
قُرب میں اضافہ کی کوشش:
ہم یہ بات پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ قُرب کے دَرَجات کی کوئی انتہا نہیں اور بندے کا حق یہ ہے کہ ہر دم اس کوشش میں رہے کہ اس کے قُرب میں اضافہ ہو جائے ۔اسی لئے رسولِ اکرم ،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’مَنِ اسۡتَوٰی یَوۡمَاہٗ فَھُوَ مَغۡبُوۡنٌ وَّمَنۡ کَانَ یَوۡمُہٗ شَرًّا مِّنۡ اَمۡسِہٖ فَھُوَ مَلۡعُوۡنٌیعنی جس کے دو دن برابر ہوں وہ خسارے میں ہے اور جس کا آج گزشتہ کل کے مقابلے میں برا ہے وہ ملعون ہے۔‘‘ (3)
یوں ہی حضورنَبیّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے:’’میرے دل پر دن اور رات میں پردہ آتا رہتا ہے حتّٰی کہ میں70مرتبہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے استغفار کرتا ہوں۔‘‘ (4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… ترجمۂ کنز الایمان:ارے لعنت ہو ثمود پر۔(پ۱۲،ھود:۶۸)
2… ترجمۂ کنز الایمان: ارے دور ہوں مدین جیسے دور ہوئے ثمود۔(پ۱۲،ھود:۹۵)
3…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب المنامات،۳/ ۱۲۴،حدیث:۲۴۳
4…مسلم، کتاب الذکر والدعاء، باب استحباب الاستغفار والاستکثارمنہ،ص۱۴۴۹،حدیث:۲۷۰۲
سنن ابن ماجہ، کتاب الادب، باب الاستغفار،۴/ ۲۵۶،حدیث:۳۸۱۶