Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
128 - 784
 وہی عطا کیا جائے گا جو اس کا نفس چاہتا ہو اور جس سے اس کی آنکھ کو لذت ملتی ہواورجس کا مقصود ربِّ آخرت اور تمام جہان کا مالک ہو گا اور اس کے دل پر خالص اور سچی محبَّتِ الٰہی کا غلبہ ہوگا اس کوسچ کی مجلس میں عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضور اتارا جائے گا۔
اہل عقل مقامِ علیین میں :
	حاصِلِ کلام یہ  ہے کہ ابرار باغات میں سیر کریں گے اور حور وغلماں کے ساتھ جنت میں چین پائیں گے جبکہ مُقَرَّبِیْنِ بارگاہِ ربُّ العزت میں حاضر رہیں گے اور اسی کی طرف نظر جمائے ہوں گے اور اس لذت کے ایک ذرہ کے مقابلے میں تمام جنتوں کی نعمتوں کو حقیر جانیں گے لہٰذا پیٹ اور شرم گاہ کی شہوت کو پورا کرنے میں مشغول لوگ اور ہوں گے جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں بیٹھنے والے اور ہوں گے۔اسی لئے رسولِ اکرم، شفیعمُعَظَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’اَکۡثَرُاَھۡلِ الۡجَنَّةِ الۡبُلۡہُ وَ عِلِّیُّوۡنَ لِذَوِی الۡاَلۡبَاب یعنی اکثر اہْلِ جنت بھولے بھالے ہیں اورمقامِ علیین کے مستحق عقل والے ہیں۔“(1)
	چونکہ علیین کا معنیٰ سمجھنے سے عقل قاصر تھی تواس کے معاملے کو عظیم بنایاجیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ مَاۤ اَدْرٰىکَ مَا عِلِّیُّوۡنَ ﴿ؕ۱۹﴾ (پ۳۰،المطففین:۱۹)		ترجمۂ کنز الایمان: اور تو کیا جانے علیین کیسی ہے۔
	یونہی اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: 
اَلْقَارِعَۃُ ۙ﴿۱﴾ مَا الْقَارِعَۃُ ۚ﴿۲﴾ وَ مَاۤ اَدْرٰىکَ مَا الْقَارِعَۃُ ؕ﴿۳﴾ (پ۳۰،القارعة:۱تا۳)
ترجمۂ کنز الایمان: دل دہلانے والی کیا وہ دہلانے والی اور تو نے کیا جانا کیا ہے دہلانے والی۔
آٹھویں علامت:
	محبت کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ بندہ محبَّتِ الٰہی میں خائف اور اس کی ہیبت و تعظیم کی وجہ سے ناتواں رہے اور بعض دفعہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ خوف محبت کی ضد ہے حالانکہ ایسا نہیں بلکہ عظمت کا ادراک ہیبت کو لازم 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…شعب الایمان، باب التوکل باللّٰہ والتسلیم،۲/  ۱۲۵،حدیث:۱۳۶۶
	قوت القلوب،الفصل الثامن والعشرون:مراقبہ الموقنین من المقربین،۱/ ۱۸۸