Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
126 - 784
آخرت میں اپنی محبت کی مقدار نعمتیں پائے گا۔لہٰذا اس کی شراب میں مُقَرَّبِین کی شراب کی کچھ مقدار ملا دی جائے گی جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مُقَرَّبِین کے بارے میں ارشاد فرمایا:
اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیۡ نَعِیۡمٍ ﴿ۙ۲۲﴾ عَلَی الْاَرَآئِکِ یَنۡظُرُوۡنَ ﴿ۙ۲۳﴾ تَعْرِفُ فِیۡ وُجُوۡہِہِمْ نَضْرَۃَ النَّعِیۡمِ ﴿ۚ۲۴﴾ یُسْقَوْنَ مِنۡ رَّحِیۡقٍ مَّخْتُوۡمٍ ﴿ۙ۲۵﴾ خِتٰمُہٗ مِسْکٌ ؕ وَ فِیۡ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوۡنَ ﴿ؕ۲۶﴾ وَ مِزَاجُہٗ مِنۡ تَسْنِیۡمٍ﴿ۙ۲۷﴾ عَیۡنًا یَّشْرَبُ بِہَا الْمُقَرَّبُوۡنَ﴿ؕ۲۸﴾(پ۳۰،المطففین:۲۲تا۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک نکو کار ضرور چین میں ہیں تختوں پر دیکھتے ہیں تو ان کے چہروں میں چین کی تازگی پہچانے نتھری(خالص وپاک) شراب پلائے جائیں گے جو مہر کی ہوئی رکھی ہے اس کی مہر مشک پر ہے اسی پر چاہیے کہ للچائیں للچانے والےاور اس کی ملونی(ملاوٹ)تسنیم سے ہے وہ چشمہ جس سے مقربان بارگاہ پیتے ہیں۔
	ابرار کی شراب اس لئے مزیدار ہوگی کہ اس میں مقربین کی خالص شراب کی آمیزش ہوگی اور شراب سے مراد تمام جنتی نعمتیں ہیں جس طرح کتاب سے مراد تمام اعمال ہیں جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:
کَلَّاۤ اِنَّ کِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیۡ عِلِّیِّیۡنَ ﴿ؕ۱۸﴾ (پ۳۰،المطففین:۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:ہاں ہاں بے شک نیکوں کی لکھت سب سے اونچے محل علیین میں ہے۔
	پھر ارشاد فرمایا: 
یَّشْہَدُہُ الْمُقَرَّبُوۡنَ ﴿ؕ۲۱﴾ (پ۳۰،المطففین:۲۱)		ترجمۂ کنز الایمان: کہ  مقرب جس کی زیارت کرتے ہیں۔
جنت میں دنیا جیسا حال:
	ان کے اعمال کی بلندی کی علامت یہ ہے کہ اتنی بلند ہوگی کہ مُقَرَّبِیْن اس کی زیارت کریں گےاور جس طرح ابرار دنیا میں مقربین کے قُرب اور مشاہدے سے اپنے حال اور معرفت میں زیادتی پاتے ہیں یہی حال ان کا آخرت میں ہوگا۔(درج ذیل تین فرامین میں اسی  کے متعلق ارشاد ہوتا  ہے:)
(1)…
مَا خَلْقُکُمْ وَلَا بَعْثُکُمْ اِلَّا کَنَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ؕ (پ۲۱،لقمٰن:۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان: تم سب کا پیدا کرنا اور قیامت میں اٹھانا ایسا ہی ہے جیسا ایک جان کا ۔