Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
124 - 784
	سیِّدُالطائفہ حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں: محبت کی علامت دائمی نَشاط اور ایسی کوشش و مشقت کرنا ہے کہ بدن تھک جائے لیکن دل نہ تھکے۔
	ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:محبت کے ہوتے ہوئے عمل کرنے میں تھکاوٹ نہیں ہوتی۔
	بعض علما نے فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! محب طاعتِ الٰہی سے سیر نہیں ہوتا اگرچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قُرب  کی بلند منازل پر پہنچ جائے۔
	اس طرح کی تمام باتیں مشاہَدات میں موجود ہیں کیونکہ عاشق اپنے معشوق کی محبت میں تگ و دو کرنے کو بوجھ نہیں سمجھتا اور    دل سے اس کی خدمت کو اچھا سمجھتا ہے اگرچہ بدن پر شاق ہواور جب اس کا بدن عاجز ہو جائے تو اس کے نزدیک سب سے محبوب چیز یہ ہوتی ہے کہ اس کو پھر سے قدرت حاصل ہوجائے اور عجز جاتا رہے تا کہ وہ خدمتِ محبوب میں مشغول ہو سکے ،محبتِ الٰہی کا معاملہ بھی اسی طرح ہے کیونکہ جو محبت غالب ہوتی ہے وہ اپنے سے کم تر کو دبا دیتی ہے۔مثال کے طور پر جس شخص کے نزدیک اس کا محبوب سُستی سے زیادہ پسندیدہ ہو وہ اپنے محبوب کی خدمت کی وجہ سے سستی چھوڑ دے گا اور اگر وہ مال سے زیادہ محبوب ہو تو اس کی محبت میں مال کو چھوڑ دے گا ۔
	منقول ہے کہ ایک محب نے اپنی جان ،مال سب کچھ محبوب پر قربان کردیایہاں تک کہ اس کے پاس کچھ باقی نہ رہا تو اس سے پوچھا گیا:محبت میں آپ کا یہ حال کیسے ہوگیا؟تو اس نے جواب دیا :میں نے ایک دن کسی محب کو اپنے محبوب سے یہ کہتے سنا: بخدا!میں سچے دل سے تمہیں چاہتا ہوں اور تم مجھ سے بالکل رُخ پھیرے ہوئے ہو ۔محبوب نے اس سے کہا:اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے تو تم مجھ پر کیا چیز خرچ کرو گے؟ محب نے کہا:اے میرے آقا! اولاً میں اپنی ہر چیز کاآپ کو مالک بنا دوں گا پھر اپنی روح آپ پر قربان کردوں گا حتّٰی کہ آہ  راضی ہو جائیں۔پس میں نے دل میں کہا : مخلوق کا مخلوق کے ساتھ اور بندے کا بند ے کے ساتھ یہ مُعاملہ ہے تو بندے کا معبود کے ساتھ مُعاملہ کیسا ہونا چاہئےتو محبت میں اس حال کا یہی سبب ہے۔
ساتویں علامت:
	محبت کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے تمام بندوں پرمُشْفِق اور مہربان ہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ