Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
123 - 784
پانچویں علامت:
	باری تعالٰی سے محبت کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا جو چیز بھی اس سے جاتی رہے اس پر افسوس نہ کرے لیکن ہر وہ گھڑی جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر اور اس کی عبادت کے بغیر گزر جائے اس پر انتہائی افسوس کرے اور جب غفلت ہوجائے تو بکثرت طلبِ رحم ، رضا جوئی اور توبہ کے ساتھ رجوع کرے۔
	ایک عارف فرماتے ہیں :اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ اسی سے محبت کرتے ہیں اور اسی سے چین پاتے ہیں لہٰذا جانے والی چیز پر انہیں افسوس ہوتاہے  نہ وہ نفسانی لذات میں مشغول ہوتے ہیں کیونکہ ان کے مالکِ حقیقی کی ملکیت کامل ہے، وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔پس جو ان کے لئے  مقدر ہو چکا وہ انہیں مل کر رہے گا اور جو نہیں مل سکا تو وہ اس لئے  کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان کے لئے  حُسنِ تدبیریہی ہے۔
	محب کا حق یہ ہے کہ جب خوابِ غفلت سے بیدار ہو تو اپنے محبوب کی طرف متوجہ ہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے یہ سوال کرنے میں مشغول ہوجائے:”اے میرے ربّعَزَّ  وَجَلَّ!تو نے میرے کس گناہ کی وجہ سے اپنا احسان مجھ سے مُنْقَطَع کیا اور مجھے اپنی بارگاہ سے دور کر کے نفس و شیطان کی پیروی میں مشغول کر دیا ؟“اس طرح خالص ذکر اور رِقَّتِ قلبی پیدا ہوگی جو اس کی سابقہ غفلت کا  کَفّارہ ہو جائے گی اور اس کی لغزش نئے ذکر اورصفائے قلب کا سبب ہو گی اور جب محب صرف محبوب پر نظر رکھے اور ہر شے کو اسی کی طرف سے جانے تو نہ اس کو کسی چیز کا افسوس ہوگا اور نہ وہ شک کرے گا بلکہ تمام اَحوال میں راضی رہے گا اور یقین کر لے گا کہ محبوبِ حقیقی نے اس کے لئے  وہی مقدر فرمایا ہے جو اس کے حق میں بہتر ہے اور اس ارشادِ ربانی کو یاد کر ے:
وَعَسٰۤی اَنۡ تَکْرَہُوۡا شَیْـًٔا وَّہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمْۚ (پ۲،البقرة:۲۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔
چھٹی علامت:
	علاماتِ محبت میں سےایک یہ بھی ہے کہ طاعتِ الٰہی میں لذت پائے اور اس کو بوجھ نہ جانے اور عبادت میں تھکاوٹ نہ ہو جیسا کہ ایک بزرگ کا قول ہے: میں نے20سال تک رات کی تکلیف برداشت کی پھر20 سال اس سے لذت اٹھائی۔