اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوۡبُہُمۡ بِذِکْرِ اللہِ ؕ اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ ﴿ؕ۲۸﴾(پ۱۳،الرعد:۲۸(
ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے ۔
حضرت سیِّدُنا قَتادہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: وہ دل جو اس کے خواہش مند اور اس سے مانوس ہیں۔
خالص محبت کا مزہ:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشادفرمایا: جو شخص خالص محبتِ الٰہی کا مزہ چکھ لیتا ہے تو یہ اس کو طلبِ دنیا سے روک دیتا ہے اور تمام لوگوں سے متَنَفِّر کر دیتا ہے ۔
حضرت سیِّدُنامُطَرِّف بن ابوبکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:محب اپنے محبوب کی باتوں سے اکتاتا نہیں۔
محبت کا جھوٹا دعویدار:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی:’’ جو مجھ سے محبت کا دعوٰی کرے اور رات آنے پر میرے ذکر سے غافل ہو کر سو رہے وہ جھوٹا ہے ۔کیا ہر محب اپنے محبوب کی ملاقات کا طالب نہیں ہوتا ؟میں اپنے طالبین کے لئے موجود رہتا ہوں ۔“
حضرت سیِّدُنا موسٰی کَلِیْمُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:” اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ!تو کہاں ہے کہ میں تیرا قصد کروں ؟“اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:” جب تو قصد کرے گا پہنچ جائے گا۔“
مُحِبّ کی تین خصلتیں:
حضرت سیِّدُنایحییٰ بن مُعاذ رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِینے فرمایا:”مَنْ اَحَبَّ اللّٰہَ اَبْغَضَ نَفْسَہٗیعنی جواللہعَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرتا ہے وہ اپنے نفس سے نفرت کرتا ہے۔“نیز فرماتے ہیں:جس میں تین خصلتیں نہ ہوں وہ محب نہیں: (۱)…کلامِ الٰہی کو مخلوق کے کلام پر(۲)… اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ملاقات کو مخلوق کی ملاقات پراور(۳)…عبادت کو مخلوق کی خدمَت پر ترجیح دے۔