حکایت :پرندے سے محبت کا نقصان
منقول ہے کہ ایک عابد نے کسی جنگل میں طویل عرصہ تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کی۔ اس نے ایک مرتبہ کسی پرندے کو دیکھاجس نے ایک درخت میں گھونسلا بنارکھا ہےاوروہ وہاں آکر چہچہاتاہے تو اس عابد نے دل میں کہا:”کیا ہی اچھا ہو جو میں اپنی جائے عبادت اس درخت کے قریب بنالوں تا کہ اس پرندے کی آواز سے مانوس ہوتارہوں ۔“پھر اس نے ایسا کر لیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس وقت کے نبی عَلَیْہِ السَّلَام پر وحی نازل فرمائی:”فلاں عابد سےکہہ دو:تم مخلوق سے مانوس ہوئے میں نے تمہارا درجہ ایسا کم کر دیا ہے کہ اب کسی بھی عمل سے اسے نہیں پا سکو گے ۔“
اُنسِ مناجات کی علامت:
معلوم ہوا محبت کی علامت یہ ہے کہ مناجاتِ محبوب کے ساتھ کمال درجے کا اُنس ہو اور اس کے ساتھ تنہائی سے کمالِ لذت ہو اور ہر وہ شے جو خلوت اور لذتِ مناجات میں خَلَل اور رَخْنہ ڈالے اس سے سخت نفرت ہواور اُنس کی علامت یہ ہے کہ عقل اور فہم سب کا سب لذتِ مناجات میں مُسْتَغْرَق ہو جس طرح کوئی شخص اپنے معشوق کو مخاطب کر کے اس سے مناجات کرتا ہو۔ اسلافِ کرام میں سے ایک بزرگ کو اس درجے کی لذت پہنچی کہ وہ نماز میں مشغول تھے اور ان کے گھر میں آگ لگ گئی لیکن ان کو پتا تک نہ چلااور ایک بزرگ کا بیماری کی وجہ سے نماز کی حالت میں پاؤں کاٹ دیا گیا اور انہیں معلوم تک نہ ہوا ۔
خلوت ومناجات آنکھوں کی ٹھنڈک:
جب محبت اور اُنس بندے پر غالب ہوتے ہیں تو خلوت اور مناجات اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے تمام فکریں دفع ہوجاتی ہیں بلکہ اُنس اور محبت دل کو اس طرح ڈھانپ لیتے ہیں کہ اُمورِ دنیا جب تک کئی بار کانوں سے نہ ٹکرائیں تب تک سمجھ میں نہیں آتےچنانچہ ایسے کی مثال اس عاشق کی طرح ہے جو اپنی زبان سے تو لوگوں کے ساتھ گفتگو کر رہا ہوتا ہے لیکن باطن میں وہ محبوب کے ذکر سے مانوس ہورہاہوتا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتا ہے :