چوتھی علامت:
محبَّتِ الٰہی کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ بندے کو خلوت ،مناجاتِ الٰہی اور تلاوتِ قرآن کریم سے اُنسیت ہو۔لہٰذا تہجُّد پرہمیشگی اختیار کرے اور رکاوٹیں دور ہونے کی وجہ سے رات کے سکون اور صاف وقت کو غنیمت جانے کیونکہ محبت کاکم سے کم درجہ حبیب کے ساتھ خلوت کی لذت پانا اور اس کی مناجات سے راحت حاصل کرنا ہےتو جس کے نزدیک سونا اور غیر کے ساتھ گفتگو میں مشغول ہونا مناجاتِ الٰہی کی نسبت زیادہ لذیذ اور عمدہ ہو اس کی محبت کیسے صحیح ہوسکتی ہے ؟
حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم پہاڑ سے اتر رہے تھے کسی نے پوچھا:آپ کہاں سے آرہے ہیں؟تو جواب دیا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اُنس حاصل کر کے آرہا ہوں۔
حضرت سیِّدُناداؤدعَلَیْہِ السَّلَامفرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:میری مخلوق میں سے کسی سے اُنسیت حاصل نہ کرنا کیونکہ میں دو بندوں کو اپنی بارگاہ سے دور کر دیتا ہوں:(۱)… ایک وہ شخص جو میرے ثواب میں تاخیر سمجھ کر الگ ہو گیا اور(۲)…دوسرا وہ شخص جس نے مجھے بھلا دیا اور اپنے حال پر خوش رہا اور اس کی علامت یہ ہے کہ میں اس کو اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہوں اور اس کو دنیا میں حیران چھوڑ دیتا ہوں۔
بندہ جب غیرُاللہ سے مانوس ہوتا ہے تو جس قدر وہ غیرُاللہ سے مانوس ہوتا ہے اسی قدر اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے وحشت محسوس کرتا ہے اور محبت کے درجے سے گر جاتا ہے ۔
حکایت :ایک عیب بھی نقصان دہ ہے
مروی ہے کہ بُرخ نامی غلام جس کے وسیلہ سے حضرت سیِّدُنا موسٰی کَلِیْمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنےبارش کی دعاکی تھی اس کےمتعلقاللہ عَزَّ وَجَلَّنےحضرت سیِّدُناموسیٰعَلَیْہِ السَّلَام سےفرمایا:بُرخ میرا کتنا اچھا بندہ ہے لیکن اس میں ایک عیب ہے۔عرض کی: اے میرے ربعَزَّ وَجَلَّ! اس میں کون ساعیب ہے؟ارشاد فرمایا: اس کو صبح کی ہوا اچھی لگتی ہے تویہ اس سے لُطف اندوز ہوتا ہے حالانکہ جو مجھ سے محبت کرتا ہے وہ کسی شے سے لطف نہیں اٹھاتا ۔