اہل محبت سے محبت :
حضرت سیِّدُنا سُفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرنے والے سے محبت کی اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی سے محبت کی اور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تعظیم بجالانے والے کی تعظیم کرے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی تعظیم کرتا ہے۔
قرآنِ کریم سے محبت:
ایک ارادت مند سے منقول ہے کہ میں ابتدائے سُلوک میں مناجات کی لذت پاتا تھا تو میں نے دن رات تلاوتِ قرآن پر مُداوَمَت اختیار کی پھر سستی کے سبب تلاوتِ قرآن چھوٹ گئی تو میں نے خواب میں سنا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے:’’اگر تم مجھ سے محبت کا گمان کرتے ہو تو تم نے میری کتاب سے جفا کیوں کی؟کیا تم نے ہمارے لطیف عِتاب میں غور نہیں کیا ؟“پس میں بیدار ہوا تو میرا دل قرآنِ پاک کی محبت سے مَمْلُو(پُر)تھا اور میں اپنی سابِقَہ حالت پر لوٹ آیا۔
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :تم میں سے کسی کو اپنے نفس سے قرآنِ پاک کے سوا کسی چیز کا سوال نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اگر وہ قرآن کریم سے محبت کرتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرتا ہے اور اگر قرآن پاک سے محبت نہیں کرتا ہوگا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے بھی محبت نہیں کرتا ہوگا۔(1)
سنت سے محبت کی علامت:
حضرت سیِّدُنا سَہْل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیارشادفرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کی علامت یہ ہے کہ بندہ قرآنِ کریم سے محبت کرےاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اورقرآنِ کریم سے محبت کی علامت یہ ہے کہ رسولِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت کرے اور آپ سے محبت کی علامت یہ ہے کہ سنت سے محبت کرے اور سنت سے محبت کی علامت آخرت سے محبت کرنا ہے اور آخرت سے محبت کی علامت دنیا سے نفرت کرنا ہے اور دنیا سے نفرت کی علامت یہ ہے کہ اس میں سے توشَۂ آخرت کے علاوہ کچھ نہ لے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر،۹/ ۱۳۲،حدیث:۸۶۵۷،مفھومًا وبتغیر