زبان اس سے کوتاہی نہ کرے اور نہ دل اس سے خالی ہو کیونکہ جو کسی سے محبت کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کا اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیزوں کا ذکر کثرت کے ساتھ کرتا ہے۔ پس محبَّتِ الٰہی کی علامت یہ ہے کہ اس کے ذکر سے محبت ہو،اس کے کلام یعنی قرآنِ پاک سے محبت ہو،اس کے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت ہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے نسبت رکھنے والی ہرچیزسے محبت ہو کیونکہ جو کسی انسان سے محبت کرتا ہے وہ اس کے محلے کے کتے سے بھی محبت کرتا ہے ۔
یہ محبت میں شراکت نہیں:
جب محبت قوی ہوجاتی ہے تو محبوب سے مُتَجاوِز ہو کر ہر اس چیز تک پہنچ جاتی ہے جو محبوب کو گھیرے اور احاطہ کئے ہوتی ہے اور جس کا تعلق محبوب کے دوستوں اور قرابت داروں سے ہوتا ہے۔ یہ محبت میں شرکت نہیں ہے کیونکہ جو محبوب کے قاصد سے اس لئے محبت کرے کہ وہ محبوب کا قاصد ہے اور اس کے کلام سے اس لئے محبت کرے کہ وہ محبوب کے قاصد کا کلام ہے تو اس کی محبت محبوب سے متجاوز ہو کر غیر تک نہیں پہنچی بلکہ یہ تو محبوب سے کمالِ محبت کی علامت ہے اورجس کے دل پر محبَّتِ الٰہی غالب ہو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تمام مخلوق سے محبت کرتا ہے کیونکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پیدا کی ہوئی ہے۔پس وہ قرآنِ کریم،رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں سے کیسے محبت نہیں کرے گا؟اور اس بات کی تحقیق ہم اَخُوَّت اور صحبت کے بیان میں کر چکے ہیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
قُلْ اِنۡ کُنۡتُمْ تُحِبُّوۡنَ اللہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحْبِبْکُمُ اللہُ (پ۳،اٰل عمرٰن:۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہکو دوست رکھتےہوتومیرےفرمانبردارہوجاؤاللہتمہیں دوست رکھے گا ۔
اوررسولِ اَکرم،شاہِ دوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:’’اَحِبُّوااللّٰہَ لِمَایَغْذُوْکُمْ بِہٖ مِنْ نِّعَمِہٖ وَاَحِبُّوْنِیْ لِلّٰہیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت اس لئے کرو کہ وہ اپنی نعمتوں سے تمہاری پَروَرِش فرماتا ہے اور مجھ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے مَحبت کرو۔‘‘(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب اہل بیت النبی،۵/ ۴۳۴،الحدیث:۳۸۱۴