مروی ہےحضرت سیِّدُنانُعَیْمان بن عَمْرو اَنصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکوایک گناہ کےاِرتکاب پربارباربارگاہِ رسالت میں پیش کیاجاتااوررسولِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انہیں سزا دیتے حتّٰی کہ ایک دن جب انہیں لایا گیا اورآپ نےان پرشرعی سزا نافذفرمائی توکسی شخص نےان پرلعنت کی اورکہا:ان کوکتنازیادہ بارگاہِ رسالت میں لایاجاتاہے۔توآپ نےارشادفرمایا:’’لَاتَلْعَنْہٗ فَاِنَّہٗ یُحِبُّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَـہٗیعنی اس پرلعنت نہ کروکیونکہ یہاللہعَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت کرتا ہے ۔“(1)
غورکیجئے کہ گناہ کی وجہ سے ان کو محبت سے خارج نہ فرمایا۔ البتہ اِرتکابِ گناہ بندے کو کمال معرفت سے خارج کر دیتاہےجیساکہ ایک عارف نے فرمایا ہے:جب ایمان دل کے بیرونی حصے میں ہوتا ہے تو بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے متوسط درجے کی محبت کرتا ہے اور جب ایمان دل کے سیاہ نقطے میں داخل ہوجاتا ہے اس وقت بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے کامل و انتہائی محبت کرتا ہے اور گناہ چھوڑ دیتا ہے۔(2)
دعوائے محبت میں خطرہ:
حاصِلِ کلام یہ ہے کہ محبت کا دعوٰی کرنے میں بہت خطرہ ہے۔اسی لئے حضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے کہ اگر تم سے پوچھا جائے : کیا تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرتے ہو ؟تو خاموش رہو کیونکہ اگر تم نے کہا ’’نہیں‘‘تو تم کافر ہوگئے اور اگر تم نےکہا’’ہاں‘‘ تو تمہارا حال محبین جیسا نہیں،لہٰذا غضَبِ الٰہی سے ڈرو ۔
بعض علمافرماتے ہیں:جنت میں کوئی نعمت اہْلِ معرفت اور اہْلِ محبت کی نعمت سے بڑھ کر نہیں اور جہنم میں کوئی عذاب اس شخص کے عذاب سے بڑھ کر نہیں جو معرفت اور محبت کا دعوٰی کرے اور اس میں محبت و معرفت نام کی کوئی چیز نہ ہو۔
تیسری علامت:
بندے کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر کا بہت شیدائی ہو،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری ،کتاب الحدود، باب ما یکرہ من لعن شارب الخمر وانہ لیس بخارج من الملة،۴/ ۳۳۰،حدیث:۶۷۸۰
2…تفسیر روح البیان،پ۱۱، سورة یونس، تحت الاٰية:۳۵، ۴/ ۴۵